کیا جبراً طلاق واقع ہو جاتی ہے؟


سوال نمبر:1627
ایک بیوہ جس کے تین بچے ہیں اور اس کے ماں باپ بھی نہیں‌ ہیں، میں نے اسے سہارا دینے کے لیے اس سے نکاح کر لیا، میں‌ پہلے سے شادی شدہ ہوں، میں نے دونوں کو الگ الگ اور بہت خوش رکھا ہوا تھا مگر جب اس نکاح کا میری پہلی بیوی کو پتہ چلا تو وہ اپنے ماں باپ کے گھر چلی گئی، اور اس کے گھر والوں نے یہ شرط رکھ دی کہ جب تک تم دوسری بیوی کو طلاق نہیں‌ دو گے ہم اپنی بیٹی کو نہیں‌ بھیجیں گے، بہت سمجھایا مگر وہ نہ مانے مجھے میرے بچوں سے بھی دور کر دیا، دو ماہ گزر گئے مگر معاملہ سلجھ نہیں رہا تھا تو میں‌ نے بھی مجبور ہو کر ان کے مجبور کرنے پر دوسری بیوی کے طلاق کے کاغذات پر دستخط کر دئیے نہ کہ میں‌ نے اپنے منہ سے طلاق کے الفاظ ادا کیے نہ ہی میرے دل میں‌ طلاق دینے کی نیت تھی، نہ ہی اپنی دوسری بیوی سے کوئی جھگڑا یا اختلاف تھا، اب میری قانونی طلاق تو ہو گئی، مگر میں نے کہیں‌ پڑھا ہے کہ زبردستی دستخط کرنے سے طلاق نہیں ہوتی جب تک زبان سے طلاق کے الفاظ ادا نہ کیے ہوں، شرعی طلاق بھی ہوگئی، براہ مہربانی میری مدد کریں میری دوسری بیوی کا دنیا میں کوئی نہیں‌ میں نے جو بھی کیا بہت مجبوری میں اور زور زبردستی میں‌ کیا۔

  • سائل: محمد آصفمقام: کراچی، پاکستان
  • تاریخ اشاعت: 10 اپریل 2012ء

زمرہ: طلاق

جواب:

آپ نے جو بات بیان کی ہے اس میں جبرو  اکراہ اور زبردستی تو نہیں پائی جاتی، جبر تو تب ہوتا اگر آپ کو قتل کرنے کی دھمکی دی جاتی یا آپ کو کسی قسم کا جانی نقصان پہنچایا جاتا، آپ کی بیوی نے تو آپ پر دباؤ ڈالا جس کی وجہ سے آپ نے طلاق دے دی، اس میں اکراہ وجبر نہیں ہے، اس صورت میں طلاق واقع ہو جائے گی۔

دوسرا آپ نے طلاقوں کی تعداد نہیں بتائی کہ آپ نے جو طلاق کے کاغذات پر دستخط کیے ان پر کتنی طلاقیں لکھی ہوئی تھیں؟ الغرض جتنی بھی لکھی ہوئی تھی وہ واقع ہو گئی ہیں۔

اس کے علاوہ اگر آپ کو کسی کا دباؤ، یا قتل وجانی نقصان کی دھمکی ملی یا قسم کا خوف دلایا گیا تو براہ مہربانی پورا واقعہ تفصیل سے بغیر کوئی بات چھپائے بیان کریں تاکہ اس میں کوئی راہ نکل سکے۔ ورنہ آپ کے بتائے ہوئے واقعہ کے مطابق جتنی طلاقوں پر آپ نے دستخط کیے ہیں وہ ہو گئی ہیں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: حافظ محمد اشتیاق الازہری