غصہ کی کیفیت میں دی گئی طلاق کا کیا حکم ہے؟

سوال نمبر:3665
السلام علیکم! مفتی صاحب کچھ روز پہلے میری ساس ہمارے گھر آئیں اور کسی بات پر ہمارے گھر جھگڑا شروع ہوگیا۔ بات بڑھتے بڑھتے فساد میں‌ بدل گئی۔ میری ساس اور بیوی نے انتہائی نازیبا، گھٹیا اور ناقابلِ بیان باتیں کیں جس پر مجھے غصہ آگیا اور میں آپے سے باہر ہوگیا۔ وہاں موجود لوگوں‌ کے مطابق میں نے اپنی ساس، بیوی اور بیٹے کو مارا اور اپنی ساس کو کہا: ’میں تمہاری بیٹی کو طلاق دیتا ہوں، طلاق، طلاق‘، جبکہ مجھے ایسی کوئی بات یاد نہیں۔ کیونکہ غصے کی وجہ سے میں‌ ہوش و حواس کھو چکا تھا اور مجھے کوئی خبر نہیں کہ اس دوران میں نے کیا کہا یا کیا کیا۔ براہِ کرم راہنمائی فرما دیں کہ طلاق ہوئی یا نہیں ہوئی؟

  • سائل: عبدالکریم محمد اقبالمقام: کراچی
  • تاریخ اشاعت: 07 اگست 2015ء

زمرہ: طلاق

جواب:

اگر آپ حلفاً یہ کہتے ہیں کہ طلاق دیتے وقت آپ کے غصے کی کیفیت ایسی تھی کہ جس میں آپ ہوش و حواس کھو چکے تھے اور آپ کو اندازہ نہیں تھا کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں تو طلاق واقع نہیں ہوئی۔ اللہ تعالیٰ سے معافی مانگیں اور آئندہ ایسے غصے سے اجتناب کریں۔ غصے کی طلاق کی مزید وضاحت کے لیے ملاحظہ کیجیے:

غصّے کی کون سی حالت میں دی گئی طلاق واقع نہیں ہوتی؟

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟