صحتِ ایمان کی علامات کیا ہیں؟


سوال نمبر:98
ایمان کی صحت کی علامت کیا ہے؟

  • تاریخ اشاعت: 20 جنوری 2011ء

زمرہ: ایمانیات

جواب:

صحت ایمان کی صحت کی علامت یہ ہے کہ اللہ کے بندے اللہ تعالیٰ سے اپنی نسبت بندگی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت کے ذریعے قائم کریں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

مَّنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللهَ.

النساء، 4 : 80

’’جس نے رسول کا حکم مانا بے شک اس نے اللہ (ہی) کا حکم مانا۔‘‘

ایمان اگر جسم ہے تو اطاعت و محبت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی روح ہے۔ جس طرح روح کے بغیر جسم بے کار ہے اسی طرح اطاعت و محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بغیر ایمان کے نام پر کی جانے والی ہر کوشش بے سود اور بے نتیجہ ہے مثلاً جب انسان پر موت وارد ہوتی ہے تو فقط س کی روح نکلتی ہے اور اس کے جسم سے آنکھ، ناک، کان، ہاتھ، پاؤں الگ نہیں ہو جاتے بلکہ سب کچھ قائم رہتا ہے لیکن روح نکل جانے سے انسان کو زندہ نہیں بلکہ مردہ کہتے ہیں بالکل اسی طرح کا حال ہمارے اعمال کا ہے، اگر سارے کے سارے اعمال قائم رہیں لیکن اندر سے محبت اور اطاعت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عنصر نکل جائے تو گویا ایمان جو سب ایمان کی روح ہے ختم ہو گئی۔ نمازیں، روزے، حج، زکوٰۃ، دعوت و تبلیغ اگر یہ سب کچھ ہے لیکن محبت اور ادب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے خالی ہو تو پھر یہ بے روح عبادات اور اعمال مردہ لاشے ہیں جو ہم اپنے کندھوں پر اٹھائے پھرتے ہیں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔