نابالغ بچوں کے نام اموال سے ان کے اولیاء کا تجارت کرنا کیسا ہے؟

سوال نمبر:5943
میرے پاس جو زیور ہے وہ میں نے اپنے بچوں کے نام کر دیا تھا۔کیا میں وہ زیور ضرورت کے تحت کسی کاروبار میں استعمال کر سکتی ہوں جس کی آمدن انہی بچوں پر خرچ ہوگی ؟؟

  • سائل: سلمہ خاتونمقام: لاہور
  • تاریخ اشاعت: 17 اکتوبر 2022ء

زمرہ: خرید و فروخت (بیع و شراء، تجارت)

جواب:

قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَلاَ تُؤْتُواْ السُّفَهَاءَ أَمْوَالَكُمُ الَّتِي جَعَلَ اللّهُ لَكُمْ قِيَاماً وَارْزُقُوهُمْ فِيهَا وَاكْسُوهُمْ وَقُولُواْ لَهُمْ قَوْلاً مَّعْرُوفًا.

اور تم بےسمجھوں کو اپنے (یا ان کے) مال سپرد نہ کرو جنہیں اللہ نے تمہاری معیشت کی استواری کا سبب بنایا ہے۔ ہاں انہیں اس میں سے کھلاتے رہو اور پہناتے رہو اور ان سے بھلائی کی بات کیا کرو۔

النساء، 4: 5

درج بالا آیتِ مبارکہ میں مال بےسمجھ بچوں کے سپرد کرنے سے منع کیا گیا ہے، تاہم ان کے مال کی ایمانداری سے حفاظت کرنے، اس میں سے انہیں کھلانے، پہنانے اور ان کے ساتھ بھلائی کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ زیورات یا بچت (savings) بچوں کے نام کرنے کی بجائے انہیں استعمال میں لاکر ذریعہ آمدن بنائیں اور وہی آمدن بچوں کی تعلیم و تربیت پر خرچ کریں، یہی ان کے ساتھ بھلائی ہے۔

حاصل کلام یہ ہے کہ سائلہ بچوں کو زیورات دینے کی بجائے ان زیورات سے کاروبار کریں اور جو آمدن ہو ان بچوں پر خرچ کریں، یہی ان کا حق ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری