غیرقانونی کمپنی قائم کرکے دھوکہ دہی سے معاشی سرگرمیاں کرنے کا شرعی حکم کیا ہے؟

سوال نمبر:5051
السلام علیکم! کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ میں کہ جزیرۃ العرب میں ایک چھوٹا سا ملک ہے قطر جہاں دوسرے کئی ممالک سے لوگ ذریعۂ معاش کے لئے یہاں آتے ہیں اور رزق حلال کماتے ہیں وہیں کچھ لوگ کمپنیاں بھی کھولتے ہیں جس میں یہ ہوتا ہے کہ ویزا نکال کر اس کی تجارت کرتے ہیں یعنی ایک ویزا کا گورنمنٹ چارج ہے 300 ریال، لیکن کمپنی والے مُلک اور ماہانہ کے حساب سے کسی سے دس ہزار، کسی سے پانچ ہزار میں ایک ویزا بیچتے ہیں اور پھر اس آدمی کو فری چھوڑ دیتے ہیں۔ جو اسے سالانہ تین سے چار ہزار ریال ادا کرتے ہیں جس میں بارہ سو تقریبا آئی ڈی بنانے کا گورنمنٹ چارچ ہے اور باقی کمپنی والے اپنے فائدے کے طور پر رکھتے ہیں جس میں کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ سال دو سال کے بعد کمپنی بلاک ہوجاتی ہے یا صاحب کمپنی اسے رینیو نہیں کراتے جس کی وجہ سے کمپنی بند بھی ہوجاتی ہے ایسی صورت میں گاہک کو کافی نقصان بھی ہوتا ہے اور بسا اوقات اسے ملک چھوڑ کر جانا بھی پڑتا ہے۔ دوسری بات یہ کہ ایسا کرنا قانونا جرم بھی ہے اور اس طرح ویزا کی تجارت سخت ممنوع بھی ہے اسی وجہ سے کبھی چیک میں پکڑے جانے کی وجہ سے آدمی کو جیل بھی جانا پڑتا ہے اور جرمانہ بھی ادا کرنا پڑتا ہے جس میں کمپنی والے پر بھی جرمانہ عائد ہوتا ہے اور اس کی کمپنی بھی بند کردی جاتی ہے اور صاحب کمپنی کو بھی جیل میں رکھ کر جرمانہ لیا جاتا ہے اور اسے بھی گورنمنٹ ملک بدر کردیتی ہے۔ دریافت طلب یہ امر ہے کہ ایسا کرنا شرعاً کیسا ہے؟

  • سائل: محمد بلال برکاتی نیپالیمقام: سنسری، نیپال
  • تاریخ اشاعت: 20 اکتوبر 2022ء

زمرہ: خرید و فروخت (بیع و شراء، تجارت)

جواب:

اسلام کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ دیگر مذاہب کے برعکس یہ ایک مکمل دین ہے جو زندگی کے ہر شعبے سے متعلق انسانیت کی رہنمائی کرتا ہے۔ اسلام نے اپنے ماننے والوں کو معاشی معاملات کے متعلق بھی جامع تعلیمات دی ہیں اور جائز و ناجائز کی حدود واضح کی ہیں۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَ لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ وَ تُدْلُوْا بِهَاۤ اِلَی الْحُكَّامِ لِتَاْكُلُوْا فَرِیْقًا مِّنْ اَمْوَالِ النَّاسِ بِالْاِثْمِ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ.

اور تم ایک دوسرے کے مال آپس میں ناحق نہ کھایا کرو اور نہ مال کو (بطورِ رشوت) حاکموں تک پہنچایا کرو کہ یوں لوگوں کے مال کا کچھ حصہ تم (بھی) ناجائز طریقے سے کھا سکو حالانکہ تمہارے علم میں ہو (کہ یہ گناہ ہے)۔

الْبَقَرَة، 2: 188

اور دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا:

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْكُمْ ۫ وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْ ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُمْ رَحِیْمًا.

 اے ایمان والو! تم ایک دوسرے کا مال آپس میں ناحق طریقے سے نہ کھاؤ سوائے اس کے کہ تمہاری باہمی رضا مندی سے کوئی تجارت ہو، اور اپنی جانوں کو مت ہلاک کرو، بیشک اللہ تم پر مہربان ہے۔

النِّسَآء، 4: 29

کوئی شخص تجارت میں دھوکہ دے یا غلط بیانی سے کام لے تو یہ نا جائز ہے، حدیث میں آتا ہے: ’’من غشنا فلیس منا.‘‘ یعنی جس نے ہمیں (مسلمانوں کو) دھوکہ دیا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ دوسری حدیث میں آیا ہے: ’’من باع معیباً فلم ینبہ عن عیبہ فلم یزل فی غضب اللّٰہ أولم تزل الملائکۃ تلعنہ‘‘ کسی نے اگر کوئی عیب دار چیز فروخت کی اور اس کی خریدارکو اس کا عیب نہ بتلایا تو وہ ہمیشہ اللہ کی غضب میں رہے گا یا اس پر فرشتے ہمیشہ لعنت کرتے رہیں گے۔

تجارت اور لین دین کے یہ بنیادی احکام بیان کرنے کے بعد اب سائل کے بیان کردہ معاملہ کا جائزہ پیشِ خدمت ہے۔ سائل نے جس طرح کا معاملہ بیان کیا ہے بادی النظر میں معلوم ہوتا ہے کہ یہ معاملہ کرنے والے افراد جعلی کمپنیاں بنا کر اور جھوٹ بول کر لوگوں سے پیسہ ہتھیا رہے ہیں اور انہیں جعلی ویزے جاری کر رہے ہیں۔ ایسا کرنا شرعاً اور قانوناً جرم ہے۔ اس لیے پیش کردہ تمام معاملہ ناجائز ہے، اور اس سے حاصل ہونے والا مالی فائدہ حرام ہے۔ اس جرم کی سزا دنیا میں ملکی قانون کے مطابق اور آخرت میں اس گناہ کی سزا نارِ جہنّم ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری