صدقاتِ واجبہ اور صدقاتِ نافلہ سے کیا مراد ہے؟


سوال نمبر:263
صدقاتِ واجبہ اور صدقاتِ نافلہ سے کیا مراد ہے؟

  • تاریخ اشاعت: 24 جنوری 2011ء

زمرہ: صدقات  |  صدقہ فطر

جواب:

وجوب اور عدم وجوب کے لحاظ سے صدقہ کی دو قسمیں ہیں :

1۔ صدقہ واجبہ

2۔ صدقہ نافلہ

1۔ صدقہ واجبہ

صدقہ واجبہ سے مراد ایسے صدقات ہیں جن کا ادا کرنا ہر صاحب نصاب پر بطورِ فرض لازم ہے مثلاً زکوٰۃ، صدقہ فطر، عشر وغیرہ۔

1۔ قرآن حکیم میں زکوٰۃ کی اہمیت ان الفاظ سے بیان کی گئی ہے۔

وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ فَسَأَكْتُبُهَا لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَـاةَ وَالَّذِينَ هُم بِآيَاتِنَا يُؤْمِنُونَO

’’اور میری رحمت ہر چیز پر وسعت رکھتی ہے، سو میں عنقریب اس (رحمت) کو ان لوگوں کے لئے لکھ دوں گا جو پرہیزگاری اختیار کرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے رہتے ہیں اور وہی لوگ ہی ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیںo‘‘

 اعراف، 7 : 156

2۔ زکوۃ کی طرح صدقہ فطر بھی ہر صاحبِ نصاب مسلمان پر واجب ہے جس کی اہمیت احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں بیان کی گئی ہے۔

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے :

أنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم، فَرَضَ زَکَاةَ الْفِطْرِ مِنْ رَمَضَانَ عَلَی کُلِّ نَفْسٍ مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ : حُرٍّ أَوْ عَبْدٍ، أَوْ رَجُلٍ أَوِ امْرَأَةٍ، صَغِيْرٍ أَوْ کَبِيْرٍ، صَاعًا مِنْ تَمَرٍ، اَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيْرٍ.

’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صدقہ فطر کو ہر مسلمان غلام اور آزاد، مرد و عورت، بچے اور بوڑھے پر ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو واجب ٹھہرایا۔‘‘

مسلم، الصحيح، کتاب الزکوٰة، باب : زکوة الفطر علی المسلمين من التمر والشعيرِ، 2 : 678، رقم : 984

زکوۃ کی ادائیگی کے لئے سال بھر نصاب کا باقی رہنا شرط ہے جبکہ صدقہ فطر میں نصاب پر سال کا گذرنا شرط نہیں بلکہ اگر کسی شخص کے پاس عیدالفطر کے دن نصاب زکوۃ کے برابر مال اس کی حاجاتِ اصلیہ سے زائد موجود ہو تو اس پر صدقہ فطر کی ادائیگی واجب ہے۔

3۔ اسی طرح زمین سے جو بھی پیداوار ہو گیہوں، جو، چنا، باجرا، دھان وغیرہ ہر قسم کے اناج، گنا، روئی ہر قسم کی ترکاریاں، پھول، پھل میوے سب پر عشر واجب ہے۔

رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس زمین کو آسمان یا چشموں نے سیراب کیا یا زمین عشری ہو یعنی نہر کے پانی سے اسے سیراب کیا جاتا ہو اس پر عشر (یعنی پیداوار کا دسواں حصہ) اور جس زمین کو سیراب کرنے کے لئے جانور پر پانی لاد کر لاتے ہیں۔ اس میں نصف عشر (یعنی پیداوار کا بیسواں حصہ) ہے۔

2۔ صدقہ نافلہ

جو شخص اﷲ تعالیٰ کی رضا کے لئے اپنی ضرورت سے زائد مال غریبوں، مسکینوں، محتاجوں اور فقیروں پر خرچ کرے وہ نفلی صدقہ میں شمار ہو گا۔ پس جو جتنا زیادہ خرچ کرے گا آخرت میں اس کے درجات بھی اتنے ہی بلند ہوں گے۔

قرآن حکیم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے :

مَّثَلُ الَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيلِ اللّهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ أَنْبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِي كُلِّ سُنْبُلَةٍ مِّئَةُ حَبَّةٍ وَاللّهُ يُضَاعِفُ لِمَن يَشَاءُ وَاللّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌO

’’جو لوگ اﷲ کی راہ میں اپنے مال خرچ کرتے ہیں ان کی مثال (اس) دانے کی سی ہے جس سے سات بالیاں اگیں (اور پھر) ہر بالی میں سو دانے ہوں (یعنی سات سو گنا اجر پاتے ہیں) اور اﷲ جس کے لئے چاہتا ہے (اس سے بھی) اضافہ فرما دیتا ہے، اور اﷲ بڑی وسعت والا خوب جاننے والا ہےo‘‘

 البقرة، 2 : 261

’’حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا :

’’جہنم کی آگ سے بچو خواہ کھجور کا ایک ٹکڑا دے کر‘‘

 بخاری، الصحيح، کتاب الزکوٰة، باب اتقو النار و لو لبشق تمرة والقليل من الصدقة، 2 : 514، رقم : 1351

قرآن حکیم اور احادیث میں صدقات واجبہ کے علاوہ بھی بار بار صدقہ کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔