جواب:
تصوف کی ساری تعلیمات کا خلاصہ یہ ہے کہ انسان کو یاد الٰہی اور حق کے معاملے میں کامل یکسوئی نصیب ہو جائے۔ طریقت کا آغاز اور اس کے مدارج و منازل کا اختتام بھی اسی کامل یکسوئی سے ہوتا ہے، نیز اسلام کا مقصود بھی یہی ہے کہ انسان کو کامل یکسوئی عطا کر کے ایک کامل انسان بنایا جائے جبکہ اللہ رب العزت اپنے ذکر میں یکسو ہو جانے کے بارے میں فرمایا :
وَاذْکُرِ اسْمَ رَبِّکَ وَ تَبَتَّلْ إِلَيْهِ تَبْتِيْلًاO
’’اور اپنے رب کا نام یاد کرو اور سب سے ٹوٹ کر اسی کے ہو جاؤ۔‘‘
المزمل، 73 : 8
واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔