مسنون اعتکاف ٹوٹ جانے پر قضاء کا کیا حکم ہے؟

سوال نمبر:669
اگر معتکفہ کا شرعی عذر کی وجہ سے مسنون اعتکاف ٹوٹ جائے تو وہ کتنے دنوں کے اعتکاف کی قضا کرے گی؟

  • تاریخ اشاعت: 14 فروری 2011ء

زمرہ: اعتکاف

جواب:
رمضان المبارک میں معتکف یا معتکفہ (مرد یا عورت) کا کسی عذر کی وجہ سے مسنون اعتکاف ٹوٹ جائے، مثلًا ضرورت سے زائد اعتکاف گاہ سے باہر رہے یا معتکفہ (عورت) کو حیض آجائے یا نفاس (بچے کی پیدائش) ہو جائے یا کوئی اور بیماری یا تکلیف لاحق ہو جائے تو جتنے دن کا اعتکاف رہ جائے، اور رمضان المبارک کے روزے بھی اتنے ہی ہوں تو عید کے بعد جب رمضان کے روزوں کی قضا کرے تو اعتکاف کی بھی قضا کر لے۔ اگر قضائے رمضان کے ساتھ اعتکاف نہیں کیا تو بعد میں نفلی روزے رکھ کر اعتکاف پورا کرے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟