کیا خواتین اینکرز سے خبریں سننا مردوں کے لیے جائز ہے؟


سوال نمبر:5630
السلام علیکم حضرت! مجھے دو مسئلہ پوچھنے تھے، ایک یہ کہ کبھی کبھی ہم خبریں سنتے ہیں یا کبھی علماء کرام کے انٹرویو دیکھتے ہیں تو ان میں خواتین اینکرز ہوتی ہیں، کیا مرد حضرات خواتین کی آواز میں خبریں یا انٹرویوز سُن اور دیکھ سکتے ہیں؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ ہمارے رشتے دار مثلاً ماموں، خالہ یا پھوپھی ہیں، ان کے گھر جاتے ہیں تو اور بھی غیرمحرم عورتیں ہوتی ہیں وہ ہمارے پاس آجاتی ہیں‘ حال احوال پوچھنے، ان پر نظر پڑتی ہے تو اس کا کیا حکم ہے؟

  • سائل: حق نوازمقام: عمرکوٹ، پاکستان
  • تاریخ اشاعت: 22 جنوری 2020ء

زمرہ: معاشرت

جواب:

آپ کے سوالات کے جوابات بالترتیب درج ذیل ہیں:

1. شریعتِ اسلامی میں عورت کو پردے کا حکم دیا گیا ہے اور اسے پردے میں ہی رہنا چاہیے، جب کبھی باہر نکلنے کی ضرورت پیش آجائے تو بھی اسے مکمل پردے میں ہی نکلنا چاہیے۔ قرآن مجید میں عورتوں کو گھروں میں رکے رہنے کی واضح نصوص آئی ہیں۔ اگرچہ عورت کے بدن کا ستر ہونا تو نصِ صریح سے ثابت ہے تاہم عورت کی آواز کے ستر ہونے میں اختلاف ہے۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے امہات المؤمنین کو مخاطب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے:

يَا نِسَاءَ النَّبِيِّ لَسْتُنَّ كَأَحَدٍ مِّنَ النِّسَاءِ إِنِ اتَّقَيْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَيَطْمَعَ الَّذِي فِي قَلْبِهِ مَرَضٌ وَقُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوفًا.

اے اَزواجِ پیغمبر! تم عورتوں میں سے کسی ایک کی بھی مِثل نہیں ہو، اگر تم پرہیزگار رہنا چاہتی ہو تو (مَردوں سے حسبِ ضرورت) بات کرنے میں نرم لہجہ اختیار نہ کرنا کہ جس کے دل میں (نِفاق کی) بیماری ہے (کہیں) وہ لالچ کرنے لگے اور (ہمیشہ) شک اور لچک سے محفوظ بات کرنا۔

الْأَحْزَاب، 33: 32

درج بالا آیت میں امہات المؤمنین کو بالخصوص اور مسلم خواتین کو بالعموم غیرمحرم مردوں سے بدن کا پردہ کرنے کا حکم دیا ہے اور ان سے نرم لہجہ اپنانے سے منع کیا ہے لیکن صاف سیدھی بات کرنے کی اجازت دی ہے۔ یہ دلالت کرتا ہے کہ عورت کی آواز پردے میں شامل نہیں ہے، اگر عورت کی آواز بھی پردے کا حصہ ہوتی تو سیدھی اور صاف بات کرنے کی اجازت نہ دی جاتی بلکہ پوری طرح منع کر دیا جاتا۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس خواتین آتی تھیں اور مردوں کی موجودگی میں سوالات کرتی تھیں اور آپ انہیں جواب دیتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کبھی عورتوں کو پوچھنے سے منع نہيں کیا اور نہ مردوں سے یہ کہا کہ تم لوگ یہاں سے چلے جاؤ۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ عورت کی آواز پردے کا حصہ نہیں ہے، اگر اس سے فتنے کا اندیشہ ہو تو اس پر روک لگائی جائے گی۔ جہاں یہ علت نہ ہوگی، وہاں عورت کی آواز کا پردہ نہ ہوگا۔

یہ اصول واضح ہونے کے بعد سوال مسئولہ کے بارے میں راہنمائی ملتی ہے کہ خواتین اگر باپردہ ہوکر بطور اینکر غیرمردوں کے انٹرویوز کریں، بطور نیوز کاسٹر خبریں پڑھیں یا بطور مہمان پروگرامز میں شرکت کریں تو جائز ہے اور انہیں سننا بھی جائز ہے۔ اس کے برعکس عورتوں کا شرعی پردے کے بغیر ٹی وی پر آنا جائز نہیں۔ اس صورت میں غیرمردوں کے لیے ان کی آواز سننا تو جائز ہے لیکن ان کو دیکھنا جائز نہیں ہوگا۔

2. نامحرم عورتوں کے بارے میں جواب کے پہلے حصے میں وضاحت کر دی گئی ہے۔ ماموں زاد، خالہ زاد اور پھوپھی زاد بھی غیرمحرم ہی ہیں، ان کے ساتھ تنہائی میں بیٹھنا منع ہے۔ ان کے ساتھ بات کرتے ہوئے بھی ٹکٹکی باندھ کر دیکھنا ممنوع ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری