کیا دورانِ اعتکاف بامر مجبوری چند گھنٹوں مسجد سے باہر جاسکتے ہیں؟

سوال نمبر:3953
السلام علیکم! میں اس سال اعتکاف کرنا چاہتا ہوں، لیکن مجھے میرے دفتر سے چھٹی ملنا ممکن نہیں۔ دفتر مسجد کے بالکل پاس ہے، کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ دورانِ اعتکاف ایک یا دو دن کے لیے میں4 یا 5 گھنٹوں کے لیے مسجد سے دفتر جا کے اپنا کام ختم کر سکتا ہوں؟

  • سائل: محمد ارشد عباسمقام: سرگودھا، پاکستان
  • تاریخ اشاعت: 25 جون 2016ء

زمرہ: اعتکاف

جواب:

امام مرغیناني فرماتے ہیں:

وَلَوْ خَرَجَ مِنْ الْمَسْجِدِ سَاعَةً بِغَيْرِ عُذْرٍ فَسَدَ اعْتِكَافُهُ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى لِوُجُودِ الْمُنَافِي وَهُوَ الْقِيَاسُ، وَقَالَا: لَا يُفْسِدُ حَتَّى يَكُونَ أَكْثَرَ مِنْ نِصْفِ يَوْمٍ وَهُوَ الِاسْتِحْسَانُ.

امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ کے نزدیک معتکف ایک لمحہ کیلئے بھی بلاضرورت مسجد سے باہر نکلا تو اس کا اعتکاف جاتا رہا۔ قیاس یہی ہے کیونکہ اعتکاف مسجد میں ٹھہرنے کا نام ہے۔ اور صاحبین نے کہا جب تک مسجد سے باہر آدھے دن سے زائد وقت نہ گزرے اعتکاف نہیں ٹوٹتا۔ اور استحسان کا تقاضا یہی ہے۔

مرغيناني، الهداية شرح البداية، 1: 133، المکتبة الإسلامية

ابن ہمام اس پر بحث کرنے کے بعد فرماتے ہیں:

فَعُلِمَ أَنَّ الْقَلِيلَ عَفْوٌ فَجَعَلْنَا الْفَاصِلَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْكَثِيرِ أَقَلَّ مِنْ أَكْثَرِ الْيَوْمِ أَوْ اللَّيْلَةِ لِأَنَّ مُقَابِلَ الْأَكْثَرِ يَكُونُ قَلِيلًا بِالنِّسْبَةِ إلَيْهِ.

’’لہٰذا معلوم ہوا کہ تھوڑے وقت کیلئے معتکف کا مسجد سے نکلنا معاف ہے۔ تو ہم نے کم اور زیادہ میں فاصلہ یہ رکھا ہے کہ رات یا دن کے زیادہ حصہ سے کم ہے تو کم اور زائد ہے توزائد۔ اس لئے کہ زیادہ کے مقابلہ میں اس کی نسبت سے کم ہی آتا ہے۔‘‘

مبسوط میں ہے کہ امام ابوحنیفہ کا قول قیاس سے قریب تر اور صاحبین کا قول رعایت و وسعت سے قریب تر ہے۔ امام محمد رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا تھوڑے وقت کیلئے معتکف کا مسجد سے نکلنا معاف ہے تا کہ حرج وتنگی پیدا نہ ہو۔ خواہ اس کی زیادہ ضرورت نہ پڑے مثلاً کوئی شخص قضائے حاجت کیلئے نکلتا ہے تو اسے تیز چلنے کا حکم نہیں دیا جائے گا بلکہ وہ آرام وسکون سے چل سکتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ تھوڑے وقت کیلئے باہر نکلنا معاف ہے ہاں زیادہ نکلنا معاف نہیں۔ تو ہم نے حد فاضل رات اور دن کا اکثرحصہ مقرر کر دیا۔ جیسا کہ ہم نے رمضان کے روزے کی نیت کے بارے میں کہا۔ پھر ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا اعتکاف کا رکن مسجد میں ٹھہرناہے اور باہر نکلنا اس کے خلاف ہے۔ تو اس سے رکنِ عبادت ختم ہوگا اس میں کم یا زیادہ برابر ہے جیسا کہ روزے میں کھانا اور طہارت میں حدث۔

کمال الدين السيواسي، شرح فتح القدير، 2: 396، بيروت: دار الفکر

لہٰذا آپ دورانِ اعتکاف بحالت مجبوری چار سے پانچ گھنٹے کے لئے دفتر جاسکتے ہیں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟