جواب:
طلاقِ سُکران کے وقوع یا عدمِ وقوع کے بارے میں صحابۂ کرام l کے مابین اختلاف منقول ہے، اور یہی اختلاف فقہائے کرام اور ائمۂ مجتہدین کے درمیان بھی پایا جاتا ہے۔ فقہائے احناف کے نزدیک اگر کوئی شخص کسی نشہ آور چیز کو قصداً اور از خود استعمال کرکے نشہ کی ایسی حالت کو پہنچ جائے جس میں اس کی عقل و شعور متاثر ہو، تو اس کی جانب سے صادر ہونے والی طلاق کو زجراً نافذ قرار دیا جائے گا؛ تاکہ لوگ نشہ آور اشیاء کے استعمال کو طلاق سے بچنے کا ذریعہ نہ بنائیں۔ تاہم اگر کسی شخص کو دھوکے سے یا اس کی لاعلمی میں نشہ آور چیز کھلا دی یا پلا دی جائے اور اس کے نتیجے میں اس پر ایسی مدہوشی طاری ہو جائے کہ اس کی عقل و شعور مغلوب ہو جائیں، پھر وہ اس حالت میں طلاق دے، تو فقہائے احناف کے نزدیک ایسی طلاق واقع نہیں ہوتی۔ البتہ موجودہ دور کے حالات اور نشہ آور اشیاء کے بڑھتے ہوئے استعمال کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے اس مسئلے پر ازسرِنو غور کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ خصوصاً جب طلاق کے الفاظ اس حالت میں صادر ہوں کہ انسان کی عقل و شعور بالکلیہ یا اس حد تک مغلوب ہو چکے ہوں کہ اسے اپنے قول و فعل کا ادراک اور قصد باقی نہ رہے، تو ایسی صورت میں طلاق کے وقوع کا حکم اصلِ عدمِ وقوع اور مقتضائے قیاس کے زیادہ قریب معلوم ہوتا ہے؛ کیونکہ طلاق ایک شرعی تصرف ہے اور اس کے معتبر ہونے کے لیے ادراک، قصد اور اختیار کا پایا جانا بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ لہٰذا محض زجر و تادیب کی غرض سے ہر حال میں طلاق کو نافذ قرار دینا اس وقت محلِ نظر ہے جب نشہ کی شدت اس درجے تک پہنچ جائے کہ عقل و شعور ہی زائل ہو جائیں۔ مزید برآں، احادیثِ مبارکہ سے بھی یہ اصول مستفاد ہوتا ہے کہ جب کسی شخص کی عقل و تمییز اس حد تک مغلوب ہو جائے کہ وہ اپنے اقوال و افعال کا شعوری ادراک نہ رکھتا ہو، تو اس کے شرعی تصرفات کا حکم عام حالت کے تصرفات جیسا نہیں رہتا۔ چنانچہ مدہوش اور فاقدِ شعور شخص کی طلاق کے عدمِ وقوع پر احادیثِ نبویہ سے استدلال کیا گیا ہے۔ اسی مفہوم کی تائید درج ذیل حدیثِ مبارک سے بھی ہوتی ہے:
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كُلُّ طَلَاقٍ جَائِزٌ، إِلَّا طَلَاقَ المَعْتُوهِ المَغْلُوبِ عَلَى عَقْلِهِ.
’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہر طلاق نافذ ہوتی ہے سوائے مدہوش کی (دی ہوئی) طلاق کے جس کی عقل پر غصہ غالب ہو۔‘‘
الترمذي، السنن، كتاب الطلاق واللعان، باب ما جاء في طلاق المعتوه، 3: 496، الرقم: 1191، بیروت، لبنان: دار احیاء التراث العربي
امام بخاری رحمہ اللہ نے ترجمۃ الباب کے ضمن میں حضرت عبداللہ بن عباس k کا ایک قول نقل فرمایا ہے:
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رضی الله عنهما: طَلاَقُ السَّكْرَانِ وَالمُسْتَكْرَهِ لَيْسَ بِجَائِزٍ.
’’حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: مدہوش اور مجبور کی طلاق جائز نہیں ہے۔‘‘
البخاري، الصحیح، كتاب الطلاق، باب الطلاق في الإغلاق والكره والسكران والمجنون، 5: 2018، بیروت، لبنان: دار ابن كثیر الیمامة
علامہ کاسانی رحمہ اللہ نے پہلے یہ بیان فرمایا ہے کہ جمہور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اور فقہاء کرام کے نزدیک سکران (نشہ کی حالت میں مبتلا شخص) کی طلاق واقع ہو جاتی ہے، البتہ حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ سکران کی طلاق واقع نہیں ہوتی۔ یہی مؤقف امام طحاوی اور امام کرخی رحمہما اللہ کا بھی ہے، جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ سے بھی ایک قول عدمِ وقوعِ طلاق کا منقول ہے۔ اس کے بعد علامہ کاسانی رحمہ اللہ رقم طراز ہیں:
إنَّ عَقْلَهُ زَائِلٌ وَالْعَقْلُ مِنْ شَرَائِطِ أَهْلِيَّةِ التَّصَرُّفِ لِمَا ذَكَرْنَا وَلِهَذَا لَا يَقَعُ طَلَاقُ الْمَجْنُونِ وَالصَّبِيِّ الَّذِي لَا يَعْقِلُ وَاَلَّذِي زَالَ عَقْلُهُ بِالْبَنْجِ وَالدَّوَاءِ كَذَا هَذَا وَالدَّلِيلُ عَلَيْهِ أَنَّهُ لَا تَصِحُّ رِدَّتُهُ فَلَأَنْ لَا يَصِحَّ طَلَاقُهُ أَوْلَى.
’’سکران کی عقل زائل ہوتی ہے اور عقل تصرف کی اہلیت کی ایک شرط ہے، اسی وجہ سے مجنوں اور غیر عاقل بچہ کی اور جس کی عقل بھنگ اور دوا سے زائل ہو گئی ہو اس کی طلاق واقع نہیں ہوتی تو اس کی بھی طلاق اسی طرح واقع نہیں ہو گی، اس کی دلیل یہ ہے کہ اس کی ردت صحیح نہیں ہوتی تو بدرجہ اولی اس کی طلاق واقع نہیں ہونی چاہئے۔‘‘
الكاساني، بدائع الصنائع، كتاب الطلاق، فصل وأما شرائط الركن، 3: 99، بيروت: دار الكتاب العربي
مذکورہ بالا تفصیل سے واضح ہوتا ہے کہ اگر نشے کی وجہ سے انسان کی عقل و شعور اس حد تک زائل ہوجائے کہ وہ اپنے قول و فعل پر قابو نہ رکھ سکے، تو ایسی حالت میں دی گئی طلاق واقع نہیں ہوتی۔ لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر آپ نے بھی ایسی حالت میں، جب نشے کا غلبہ آپ کی عقل و شعور پر اس درجے میں تھا کہ آپ اپنے اقوال و افعال کا ادراک نہیں رکھتے تھے، طلاق کے الفاظ کہے تھے، اور نشے کی حالت ختم ہونے کے بعد حالتِ ہوش میں ان طلاقوں کی تصدیق یا توثیق بھی نہیں کی، تو ایسی صورت میں وہ طلاقیں شرعاً واقع نہیں ہوئیں۔ لہٰذا اگر مذکورہ تفصیل حقیقت پر مبنی ہے تو آپ دونوں کا بدستور میاں بیوی کی حیثیت سے ساتھ رہنا شرعاً جائز ہے۔ تاہم آئندہ ایسی قبیح اور خطرناک حرکت سے مکمل اجتناب لازم ہے، کیونکہ نشہ انسان کی عقل و شعور کو زائل کرکے اسے متعدد شرعی اور معاشرتی مفاسد میں مبتلا کردیتا ہے۔
واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔
یہ فتویٰ جامعہ اسلامیہ منہاج القرآن کے مستند علمائے کرام نے شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری کی نگرانی میں جاری کیا ہے۔ تمام فتاویٰ کو قرآن و سنت کی روشنی میں تحقیق و تنقیح کے بعد جاری کیا جاتا ہے تاکہ اسلامی تعلیمات کی سچی اور قابلِ اعتماد رہنمائی عوام تک پہنچ سکے۔