روایت ’لولاک لما اظھرت الربوبیۃ‘ کی اسنادی اور حدیثی حیثیت کیا ہے؟


سوال نمبر:6023
عرض یہ ہے کہ کیا یہ حدیث ہے ’لولاک لما اظھرت الربوبیہ‘ (اے محبوب تم نہ ہوتے تو میں اپنا رب ہونا بھی ظاہر نہ کرتا) ۔ اعلٰی حضرت فاضل بریلوی فرماتے ہیں کہ میں نے حدیث میں نہیں دیکھا۔ ہاں صوفیہ کی کتاب میں آیا ہے۔ اس کی حقیقت کیا ہے؟

  • سائل: سلطان محمد جہانگیرمقام: میانوالی
  • تاریخ اشاعت: 27 اکتوبر 2022ء

زمرہ: حدیث اور علم حدیث

جواب:

روایت کے جو الفاظ سائل نے لکھے ہیں بسیار کوشش کے باوجود حدیث کی کسی مستند کتاب میں یہ روایت نہیں ملی، لیکن معناً یہ روایت درست ہے کیونکہ امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ نے ایک روایت نقل کی ہے جو کہ ذیل میں بیان ہو رہی ہے:

عَنِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ أَوْحَى اللهُ إِلَى عِيْسَى عَلَيْهِ السَّلَام يَا عِيْسَى آمِنْ بِمُحَمَّدٍ وَأْمُرْ مَنْ أَدْرَكَهُ مِنْ أُمَّتِكَ أَنْ يُّؤْمِنُوْا بِهِ فَلَوْلَا مُحَمَّدٌ مَا خَلَقْتُ آدَمَ وَلَولَا مُحَمَّدٌ مَا خَلَقْتُ الْجَنَّةَ وَلَا النَّارَ وَلَقَدْ خَلَقْتُ الْعَرْشَ عَلَى الْمَآءِ فَاضْطَرَبَ فَكَتَبْتُ عَلَيْهِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللهِ فَسَكَنَ.

’’حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جانب وحی فرمائی کہ اے عیسیٰ! محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لاؤ اور اپنی امت کو حکم دو کہ ان میں سے جو ان کو پائے وہ ان پر ایمان لائے۔ اگر محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہ ہوتے تو میں آدم علیہ السلام کو پیدا نہ کرتااور اگر محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہ ہوتے تو میں جنت ودوزخ کو پیدا نہ کرتا اور میں نے عرش کو پانی پر بنایا تو وہ ہلنے لگا تو میں نے اس پر ﴿لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللهِ﴾ لکھ دیا تو وہ ساکن ہو گیا۔‘‘

امام حاکم رحمہ اللہ نے اس حدیث مبارکہ کو نقل کر کے اس کے بارے میں فرمایا ہے:

هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ.

’’یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمہ اللہ اور امام مسلم رحمہ اللہ نے اسے نقل نہیں کیا۔‘‘

الحاكم، المستدرك على الصحيحين، 2: 671، الرقم: 4227، بيروت: دار الكتب العلمية

اس لیے جس روایت کے بارے میں سائل نے دریافت کیا ہے یہ روایت ان الفاظ کے ساتھ محدثین کے نزدیک ثابت نہیں، البتہ معنیٰ کے اعتبار سے درست ہے۔ اسی حوالے سے حضرت ابن عباسؓ کا اثر بیان کیا گیا ہے۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ نے ایک سوال کاجواب دیتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:

’’یہ ضرور صحیح ہے کہ ﷲ نے تمام جہان حضور اقدس ﷺ کیلئے بنایا، اگر حضور نہ ہوتے کچھ نہ ہوتا۔ یہ مضمون احادیث کثیرہ سے ثابت ہے جن کا بیان ہمارے رسالہ ’تلالؤ الافلاک بحلال احادیث لولاک‘ میں ہے اور انہیں لفظوں کے ساتھ شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی نے اپنی بعض تصانیف میں لکھی مگر سنداً ثابت یہ لفظ ہیں:

خلقت الدنیا واھله الا عرفهم کرامتک و منزلتک عندی، و لولاک یامحمد! ماخلقت الدنیا.

میں نے دنیا اور اہل دنیا کو اس لیے بنایا کہ تمہاری عزت اور مرتبہ جو میری بارگاہ میں ہے ان پر ظاہر کروں، اے محمد! اگر تم نہ ہوتے میں دنیا کو نہ بتاتا۔‘‘

مذکورہ بالا صراحت یہ بات عیاں ہو جاتی ہے کہ اگرچہ ان الفاظ میں یہ حدیث ثابت نہیں مگر معناً اس کی صحت میں کوئی کلام نہیں، اس کی تائید میں کئی احادیثِ نبوی اور آثارِ صحابہ مروی ہیں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری