کسی کو چھونے سے شہوت کا شبہ ہونے پر حرمتِ مصاہرت ثابت ہوجائے گی؟

سوال نمبر:5970
السلام علیکم مفتی صاحب! میرے گھر والے مجھے میری خالہ کو موٹرسائیکل پر گھر چھوڑنے کا کہتے تھے، جب وہ موٹرسائیکل پر بیٹھتی تھیں اور ہاتھ میرے کندھے پر رکھتی تھیں تو مجھے ان کی ہاتھ کی گرمی محسوس ہوتی تھی، لیکن مجھے یاد نہیں کہ مجھے کبھی اس سے شہوت ہوئی یا نہیں۔ اب گھر والے اسی خالہ کی بیٹی سے میری شادی کرنا چاہتے ہیں۔ اس صورت میں نکاح کا کیا حکم ہے؟

  • سائل: عبدالباسطمقام: پاکستان
  • تاریخ اشاعت: 20 اکتوبر 2022ء

زمرہ: حرمت مصاہرت

جواب:

احناف کے ہاں شہوت سے چھونا بھی حرمتِ مصاہرت (سسرالی) کا موجب بنتا ہے۔ اس لیے اگر سائل نے شہوت کے ساتھ خالہ کو چھوا ہے یا خالہ کے چھونے سے سائل کو شہوت ہوئی ہے تو فقۂ حنفی کے مطابق اس سے حرمتِ مصاہرت ثابت ہوگئی ہے۔ اس لیے احناف کے نزدیک سائل کا اُسی خالہ کی بیٹی سے شادی کرنا جائز نہیں۔ اس کے برعکس اگر سائل کو مذکورہ خالہ سے کبھی شہوت نہیں ہوئی تو اس کی بیٹی سے شادی کرنا جائز ہے۔ اگر معاملہ شک و شبہ کا ہے تو اس پر غور و فکر کریں، جس قدر ممکن ہو یاد کریں کہ معاملے کی اصل نوعیت کیا تھی، کیونکہ محض شک کی بنیاد پر رشتوں کی حلت و حرمت کا حکم نہیں لگایا جاسکتا۔ غور و فکر کے بعد سائل جس نتیجہ پر پہنچے اس کے مطابق حکم لاگو ہوگا۔ حرمتِ مصاہرت کی مزید وضاحت کیلئے درج ذیل سوال ملاحظہ کیجیے:

ساس کو شہوت سے چھونے سے کیا اس کی بیٹی سے نکاح‌ برقرار رہے گا؟

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری