زکوٰۃ کی رقم ملازمین کو بطور تنخواہ دینا کیسا ہے؟

سوال نمبر:5969
السلام علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ! کیا فرماتے مفتیان کرام مسئلہ کے بارے میں کہ میں ایک کمپنی میں ملازمت کرتا ہوں اور مستحق زکوٰۃ بھی ہوں کمپنی کا مالک ہمیں تنخواہیں بھی دیتا ہو اور اپنی زکوٰۃ کی رقم بھی علیحدہ دیتا ہے جو کہ تنخواہ کے علاوہ ہے، لیکن ہماری تنخواہ سال پورے ہونے پر بڑھاتا نہیں ہے اور جب ہم تنخواہ بڑھانے کا مطالبہ کرتے ہیں تو آگے سے کہتے ہیں کہ میں تمہیں زکوٰۃ بھی تو دیتا ہوں اب تنخواہ بڑھانے کی کیا ضرورت؟ کیا شرعاً ایسا کرنا ٹھیک ہے کہ زکوٰۃ کی رقم دینے کی وجہ سے تنخواہیں نہیں بڑھاتا؟

  • سائل: عبدالصمدمقام: کراچی
  • تاریخ اشاعت: 20 جنوری 2022ء

زمرہ: مزدورں کے حقوق

جواب:

ملازمین کی تنخواہ کا تقرر کام میں مہارت، اوقاتِ کار اور اہلیت کی بنیاد پر ہوتا ہے، مقرر شدہ تنخواہ اور اس میں اضافہ وغیرہ کی شرائط آجر (کمپنی) اور اجیر (ملازم) پہلے طے کرتے ہیں۔ اگر آجر ایسے کسی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ملازمین کو اجرت نہیں دیتا یا اُس میں طے شدہ اضافہ نہیں کرتا تو وہ اجیر پر ظلم کر رہا ہے جس کیلئے وہ خدا تعالیٰ کی عدالت میں جوابدہ ہے۔ تنخواہ ملازمین کے کام کی اجرت ہوتی ہے اور زکوٰۃ بطور اجرت دینا جائز نہیں۔ زکوٰۃ کی رقم بطور اجرت دینے سے زکوٰۃ کا فریضہ ادا نہیں ہوگا، بلکہ صاحبِ استطاعت پر ہنوز واجب الاداء رہے گا۔

مستحقِ زکوٰۃ ملازمین کی مالی مدد کی نیت سے انہیں زکوٰۃ کی رقم دینے میں حرج نہیں ہے، لیکن ایسی صورت میں نیت صرف ادائیگیٔ زکوٰۃ کی ہونی چاہیے۔ اگر معاوضہ و اجرت کی نیت سے زکوٰۃ کی رقم دی یا اِس نیت سے دی کہ تنخواہ میں طے شدہ اضافہ نہیں کروں گا تو یہ جائز نہیں ہے، کیونکہ اجرت کے طور پر صدقات و زکوٰۃ دینا صدقہ کے منافی ہے۔ قرآنِ مجید میں زکوٰۃ کے آٹھ (8) مصارف بیان ہوئے ہیں جن میں زکوٰۃ کو فقراء و مساکین اور ناداروں کا حق قرار دیا گیا ہے۔ ملازمین کی محنت کے عوض کمپنی اپنے منافع سے ملازمین کی اجرت دیتی ہے۔ اگر کمپنی کا مالک ملازمین کو زکوٰۃ کی مَد سے دینا چاہتا ہے شرط یہی ہے کہ معاوضہ و اجرت کے طور پر نہ ہو اور نہ ہی زکوٰۃ کی وجہ سے اُن پر اضافی کام کا بوجھ ڈالا جائے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری