خواب میں کسی کو شہید ہوتے دیکھنے کی کیا تعبیر ہے؟


سوال نمبر:3379
السلام علیکم! عرض ہے کہ میں نے کچھ دن پہلے سحری کے اوقات میں خواب دیکھا: کہ قائدِ محترم مختلف جلسوں میں شرکت کر رہے ہیں، اس دوران قائدِ محترم کی سیکیورٹی کے ایک بھائی شہید ہو جاتے ہیں۔ وہ بھائی کفن میں ملبوس اور چار پائی پر لیٹے تھے۔ مجھے کسی نے کہا کہ کہ ان بھائی کے پاس جاؤ اور تحریک اور ان کے مرتبے کے حوالے سے ان سے بات کرو۔میں ان کی چارپائی کے پاس گئی، ساتھ میرے ابو جی بھی کھڑے تھے۔ میں ان بھائی کے کان کے پاس گئی اور کہا کہ آپ تحریک کے سپہ سالار ہیں اور اسی طرح قائد محترم کی محبت کے بارے میں ان سے باتیں کیں۔ ساتھ میں ان کے شہادت اور قائد محترم کی محبت کا عالم سوچ کر زارو قطار رو رہی تھی۔ تھوڑی دیر کے بعد ان شہید ہوئے بھائی کی آنکھوں سے بھی آنسو جاری ہونا شروع ہو گئے تھے۔ میں نے دیکھا اور سب سے کہا کہ دیکھیں شہید زندہ ہوتے یہں۔ یہ کیسا خواب ہے؟ آپ رہنمائی فرما دیں

  • سائل: کلثوممقام: لاہور
  • تاریخ اشاعت: 10 دسمبر 2014ء

زمرہ: خواب اور بشارات

جواب:

آپ کا خواب اور اس میں پیش آنے والے واقعات حقیقتِ حال ہیں۔ خوابوں کی اقسام میں سے ایک قسم یہ ہے کہ انسانی خیالات متشکل ہوکر خواب میں نظر آتے ہیں۔ جیسا کہ آقائے کائنات صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے:

الرويا ثلاث فالرويا الحسنة بشري من اﷲ عزوجل والرويا يحدث بها الرجل نفسه والرويا تحزين من الشيطن.

حاکم، المستدرک، 4 : 422، رقم : 8174

’’خواب تین طرح کے ہوتے ہیں، سچا و نیک خواب اللہ تعالیٰ کی طرف سے بشارت ہوتا ہے، دوسری قسم آدمی اپنے نفس سے ہی گفتگو کرے، تیسری قسم شیطان کی طرف سے ڈرانا ہے۔‘‘

غرض یہ کہ نیک خواب اللہ تعالیٰ کی طرف سے اہل ایمان کے لیے خوشخبری اور بشارت ہوتا ہے، برا خواب شیطان کی طرف سے ہوتا ہے، تیسرا تحدیث النفس،

آپ کا خواب پہلی اور دوسری قسم پر مشتمل ہے، کہ آپ نےعالمِ بیداری میں جو دیکھا اور سوچا وہی آپ کو خواب میں دکھایا گیا۔ آپ کا خواب اس جدوجہد کے حق اور درست ہونے کی دلیل بھی ہے۔ شہید کا زندہ ہونا ایک قطعی عقیدہ ہے، جس کا اظہار آپ کے خواب میں ہوا۔ تو یہ خواب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک شہید کی زندگی کے مشاہدہ کا بھی ہے۔

سو فرمانِ رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مطابق آپ کا فرض بنتا ہے:

فان راي رويا حسنة فليبشر

مسلم، الصحيح، کتاب الرويا، رقم: 2261

جو کوئی اچھا، نیک خواب دیکھے تو اس پر خوش ہو۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی