سنی لڑکی کا دوسرے مسلک کے لڑکے سے نکاح کرنا کیسا ہے؟


سوال نمبر:2175
السلام علیکم میں یہ پوچھنا چاہتی ہوں کہ اگر کسی لڑکی کو لڑکے سے پیار ہو جائے تو کیا یہ جائز ہے اور اگر لڑکا بدعقیدہ ہو اور لڑکی سنی ہو تو اس بارے میں‌ اسلام کیا کہتا ہے؟

  • سائل: صباءمقام: پاکستان
  • تاریخ اشاعت: 03 اکتوبر 2012ء

زمرہ: ایمانیات  |  عقائد  |  نکاح

جواب:

کسی لڑکی کو لڑکے سے یا لڑکے کو لڑکی سے پیار ہو جانا کوئی بری بات نہیں ہے۔ یہ ایک فطری عمل ہے۔ شادی بھی اسی طرح کرنی چاہیے جس سے پیار ہو۔

قرآن مجید میں ہے :

فَانكِحُواْ مَا طَابَ لَكُم مِّنَ النِّسَاءِ

(النساء، 4 : 3)

ان عورتوں سے نکاح کرو جو تمہارے لئے پسندیدہ اور حلال ہوں۔

یاد رہے یہ پسند دونوں طرف سے ہونا ضروری ہے۔ یہ آیت مبارکہ صرف مردوں کے لیے نہیں عورتوں کے لیے بھی برابر ہے۔ یعنی لڑکا لڑکی دونوں ایک دوسرے کو پسند کرتے ہوں۔ اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ راستے میں جاتے جاتے جو بھی اچھا لگے اس کو ہی اپنا Ideal بنا لیا جائے۔ سب سے بہتر طریقہ تو یہ ہے کہ جس کو آپ پسند کرتے ہیں اس کے بارے میں پہلے اپنے والدین کو قائل کیا جائے۔ پھر دوسرے فریق کی طرف پیغام بھیجا جائے۔ خاص طور پر لڑکیوں کے لیے ضروری ہے کہ اپنے والدین کو اعتماد میں لیں تاکہ بعد میں خدانخواستہ کوئی مسئلہ بن جائے تو والدین اس کا ساتھ دیں گے۔

اب سوال کے دوسرے حصہ کی طرف آتے ہیں۔ اس بات کی وضاحت تو ہو گئی کہ جس سے پیار ہو اسی سے شادی کرنی چاہیے لیکن اس سے بھی ضروری بات ہمارے لیے یہ ہے کہ ہم صحیح العقیدہ مسلمان ہونے کے ناطے قرآن وحدیث کی تعلیمات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہی کسی کو اپنا Ideal بنائیں۔ اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پسند ہی ہماری پسند ہونی چاہیے۔ اگر ہم کم علمی اور نادانی کی وجہ سے کسی غلط شخص سے پیار محبت رکھتے ہوں تو معلوم ہو جانے کے بعد ہمیں اللہ تعالی اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت کو اپنے فیصلہ پر ترجیح دینی چاہیے۔ اس لیے جس کے عقائد درست ہوں اسی سے پیار محبت کرنا چاہیے اور اسی سے نکاح کرنا چاہیے۔ اس لیے لڑکا ہو یا لڑکی نکاح سے پہلے دوسرے فریق کے عقائد کی تصدیق ضرور کریں۔

کیا سنی لڑکی دوسرے مسلک میں نکاح کر سکتی ہے؟
اس سوال کے مطالعہ کے لیے یہاں کلک کریں

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری