تصوف اور طریقت سے کیا مراد ہے؟


سوال نمبر:114
طریقت و تصوف سے کیا مراد ہے؟

  • تاریخ اشاعت: 20 جنوری 2011ء

زمرہ: تصوف

جواب:

طریقت درحقیقت شریعت ہی کا باطن ہے۔ شریعت جن اعمال و احکام کی تکمیل کا نام ہے ان اعمال و احکام کو حسن نیت اور حسن اخلاص کے کمال سے آراستہ کر کے نتائجِ شریعت کو درجہ احسان پر فائز کرنے کی کوشش علم الطریقت اور تصوف کی بنیاد ہے۔

شیخ احمد سرھندی اپنے ایک مکتوب میں لکھتے ہیں :

’’شریعت و حقیقت ایک دوسرے کا بالکل عین ہیں اور حقیقت میں ایک دوسرے سے الگ اور جدا نہیں ہیں فرق صرف اجمال و تفصیل، کشف و استدلال، غیبت و شہادت اور عدم و تکلف کا ہے۔‘‘

شيخ احمد سرهندی، مکتوبات امام ربانی، 2 : 255

اس کو ایک مثال کے ذریعے یوں سمجھ لیجئے :

اگر کوئی شخص ظاہری شرائط و ارکان کے مطابق نماز ادا کرتا ہے تو فرضیت کے اعتبار سے اس کی نماز ادا تو ہو جائے گی لیکن اس کے باطنی تقاضے پورے نہیں ہوں گے اس لیے کہ نماز میں جس طرح اس کا چہرہ کعبہ کی طرف ہوتا ہے اسی طرح ضروری ہے کہ اس کے قلب و روح کا قبلہ بھی رب کعبہ کی طرف ہوا اور جسم کے ساتھ ساتھ اس کا قلب اور روح بھی خالقِ حقیقی کی طرف متوجہ ہو یہ قلبی اور باطنی کيفیات ہیں جس سے بندے کو روحانی مشاہدہ نصیب ہو جاتا ہے اور ایمان اور اسلام دونوں کو جلا ملتی ہے۔ تصوف کا منشاء انہی روحانی کيفیات کو اجاگر کرنا ہے۔ اس روحانی ترقی اور فروغ کے لئے جو طریقے اہل اللہ نے وضع کیے ہیں انہیں طریقت کہتے ہیں۔ ان طریقوں کو اصطلاحاً علم التزکیہ و علم التصوف بھی کہتے ہیں وہ بزرگ ہستیاں جنہوں نے قلب و باطن کی تطہیر اور اصلاح و تصفیہ کی خیرات اخلاقی و روحانی تربیت سے امت مسلمہ میں تقسیم کی وہ صوفیاء کرام اور اولیاء اللہ کہلاتے ہیں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔