دواساز کمپنیوں‌ کی طرف سے ڈاکٹرز کو ملنے والے تحائف کی شرعی حیثیت کیا ہے؟


سوال نمبر:4961
السلام علیکم! کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اور مفتیان عظام اس مسئلہ میں‌ کہ زید ایک ہسپتال میں جاب کرتا ہے جہان مختلف دواساز کمپنیوں اور مختلف مشینیں جو کہ ٹیسٹ وغیرہ میں کام آتی ہیں‘ کے نمائندگان بھی آتے ہیں۔ یہ میڈیکل اور پیرامیڈیکل سٹاف کو تحائف دیتے ہیں‘ ان تحائف کا شریعی حکم کیا ہے؟ اس کے علاوہ کبھی وہ کھانا وغیرہ بھی کھلادیتے ہیں۔ مشین فروخت کرنے والی کمپنی کبھی کچھ کیش رقم بھی تحفہ کے نام پہ دیتی ہیں۔ دریافت طلب یہ امر ہے کے یہ سب تمام چیزیں جن کا اوپر ذکر کیا گیا ہے ڈاکٹر کا یا ان کے ساتھ دیگر افراد کا لینا جائز ہے؟ وہ نمائندے ہمیشہ کہتے ہیں کہ یہ صرف تحفہ ہے اس کے بدلے کچھ نہ دیں لیکن میرا اپنا ذاتی خیال ہے کہ وہ یہ سب کچھ اپنی پرڈکٹ بیچنے کے لیے کرتے ہیں۔ رہنمائی فرما کر تشفی فرمائیں۔ والسلام

  • سائل: محمد عا رفمقام: کراچی
  • تاریخ اشاعت: 17 اگست 2018ء

زمرہ: مالیات

جواب:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرتِ طیبہ کا ایک واقعہ حضرت ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قبیلہ بنو اسد کے ایک شخص ابن التيبہ کو زکوٰۃ وصول کرنے کے لیے عامل بنایا، جب وہ (زکوٰۃ وصول کر کے) آئے تو انہوں نے کہا یہ آپ کا مال ہے اور یہ مجھے ہدیہ کیا گیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا: ان عاملوں کا کیا حال ہے کہ میں ان کو (زکوٰۃ وصول کرنے) بھیجتا ہوں اور یہ آ کر کہتے ہیں:

هَذَا لَكُمْ، وَهَذَا أُهْدِيَ لِي، أَفَلَا قَعَدَ فِي بَيْتِ أَبِيهِ، أَوْ فِي بَيْتِ أُمِّهِ، حَتَّى يَنْظُرَ أَيُهْدَى إِلَيْهِ أَمْ لَا؟ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَا يَنَالُ أَحَدٌ مِنْكُمْ مِنْهَا شَيْئًا إِلَّا جَاءَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَحْمِلُهُ عَلَى عُنُقِهِ بَعِيرٌ لَهُ رُغَاءٌ، أَوْ بَقَرَةٌ لَهَا خُوَارٌ، أَوْ شَاةٌ تَيْعِرُ، ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى رَأَيْنَا عُفْرَتَيْ إِبْطَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: اللهُمَّ، هَلْ بَلَّغْتُ؟ مَرَّتَيْنِ.

یہ تمہارا مال ہے اور یہ مجھے ہدیہ (تحفہ) کیا گیا ہے۔ یہ اپنے باپ یا اپنی ماں کے گھر میں بیٹھا ہوتا پھر ہم دیکھتے کہ اس کو کوئی چیز ہدیہ کی جاتی ہے یا نہیں..! قسم اس ذات کی جس کے قبضہ و قدرت میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جان ہے! تم میں سے جو شخص بھی ان اموال میں سے کوئی چیز لے گا قیامت کے دن وہ مال اس کی گردن پر سوار ہو گا (کسی شخص کی گردن پر) اونٹ بڑبڑا رہا ہو گا، یا گائے ڈکرا رہی ہو گی یا بکری منمنا رہی ہو گی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ اتنے بلند کیے کہ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بغلوں کی سفیدی دیکھی، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو مرتبہ فرمایا: اے اللہ میں نے تبلیغ کر دی ہے۔

  1. بخاري، الصحيح، كتاب الأحكام، باب هدايا العمال، 6: 2624، رقم: 6753، بيروت: دار ابن كثير اليمامة
  2. مسلم، الصحيح، كتاب الإمارة، باب تحريم هدايا العمال، 3: 1463، رقم: 1832، بيروت: دار إحياء التراث العربي

اس حدیثِ پاک سے ظاہر ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عہدے پر فائض ہونے کی وجہ سے تحائف وصول کرنے والوں کی حوصلہ شکنی کی ہے کیونکہ کسی عہدہ پر متمکن شخص کو تحائف کی صورت میں رشوت دے کر لوگ غلط کام کرواتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عُمال و افسران کو دورانِ خدمات ہدیہ وصول کرنے پر تنبیہ فرمائی ہے۔

فتاوی ہندیہ میں عُمال اور صاحبانِ اختیار کو دیئے جانے والے تحائف پر تفصیلی بحث کی گئی ہے۔ دورِ حاضر میں دواساز کمپنیوں (Pharmaceutical Companies) کی طرف سے میڈیکل اور پیرا میڈیکل سٹاف کو دیے جانے والے تحائف بھی اسی زمرے میں آتے ہیں۔ فقہائے فتاویٰ ہندیہ کے مطابق اگر کسی صاحبِ اختیار (جیسے زیرِبحث معاملے میں ڈاکٹر یا اس کا سٹاف) کو محض دوستی و تعلق کی بناء پر کوئی تحفہ دیا جائے تو لینے والے کے لیے تحفہ لینا اور دینے والے کے لیے تحفہ دینا‘ دونوں جائز ہیں۔ اس معاملے کی دیگر صورتوں پر فتاویٰ ہندیہ درج ذیل الفاظ میں بحث کی گئی ہے:

نَوْعٌ مِنْهَا أَنْ يُهْدِيَ الرَّجُلُ إلَى رَجُلٍ مَالًا لِيُسَوِّيَ أَمْرَهُ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ السُّلْطَانِ وَيُعِينُهُ فِي حَاجَتِهِ، وَإِنَّهُ عَلَى وَجْهَيْنِ: الْوَجْهُ الْأَوَّلُ أَنْ تَكُونَ حَاجَتُهُ حَرَامًا وَ فِي هَذَا الْوَجْهِ لَا يَحِلُّ لِلْمُهْدِي الْإِعْطَاءُ وَلَا لِلْمُهْدَى إلَيْهِ الْأَخْذُ. الْوَجْهُ الثَّانِي أَنْ تَكُونَ حَاجَتُهُ مُبَاحَةً وَإِنَّهُ عَلَى وَجْهَيْنِ أَيْضًا: الْوَجْهُ الْأَوَّلُ أَنْ يَشْتَرِطَ أَنَّهُ إنَّمَا يُهْدِي إلَيْهِ لِيُعِينَهُ عِنْدَ السُّلْطَانِ، وَفِي هَذَا الْوَجْهِ لَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ الْأَخْذُ وَهَلْ يَحِلُّ لِلْمُعْطِي الْإِعْطَاءُ. تَكَلَّمُوا فِيهِ مِنْهُمْ. الْوَجْهُ الثَّانِي إذَا لَمْ يَشْتَرِطْ ذَلِكَ صَرِيحًا وَلَكِنْ إنَّمَا يُهْدِي إلَيْهِ لِيُعِينَهُ عِنْدَ السُّلْطَانِ، وَفِي هَذَا الْوَجْهِ اخْتَلَفَ الْمَشَايِخُ- رَحِمَهُمْ اللَّهُ تَعَالَى-، وَعَامَّتُهُمْ عَلَى أَنَّهُ لَا يُكْرَهُ.
وَنَوْعٌ آخَرُ أَنْ يُهْدِيَ الرَّجُلُ إلَى سُلْطَانٍ فَيُقَلِّدَ الْقَضَاءَ لَهُ، أَوْ عَمَلًا آخَرَ وَهَذَا النَّوْعُ لَا يَحِلُّ لِلْآخِذِ الْأَخْذُ وَلَا لِلْمُعْطِي الْإِعْطَاءُ كَذَا فِي الْمُحِيطِ.

اس کی ایک صورت یہ ہے کہ کسی کو اس غرض سے ہدیہ (تحفہ) دینا کہ اس کے اور سلطان (یعنی صاحبِ اختیار) کے درمیان معاملہ ٹھیک رہے اور بوقتِ ضرورت مدد کرے، تو اس کی دو صورتیں ہیں: ایک یہ کہ اگر کوئی حرام حاجت پوری کروانے کے لیے تحفہ دیا گیا ہے تو تحفہ دینا اور لینا دونوں ناجائز ہیں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ تحفہ کسی مباح (ناقابل اعتراض) کام کے لیے دیا جائے تو اس کی بھی مزید دو صورتیں ہیں: اگر تحفہ کسی کام میں مدد کرنے کی شرط کے ساتھ دیا گیا تو اس کا لینا جائز نہیں، البتہ دینے کے جواز میں فقہاء کا اختلاف ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ تحفہ دیتے ہوئے اگرچہ کوئی شرط نہیں لگائی گئی تاہم مقصد یہی ہے کہ صاحبِ اختیار میری مدد کرے‘ اس صورت میں بھی جواز و عدمِ جواز کا اختلاف ہے، تاہم عامہ مشائخ کے نزدیک اس میں کوئی حرج نہیں۔
اور اس کی ایک صورت یہ ہے کہ کوئی شخص صاحبِ اختیار کو کسی (عہدہ و منصب کے حصول جیسے) قضاء وغیرہ کے لیے تحفہ دے تو دینے والے کے لیے دینا اور لینے والے کے لیے لینا‘ دونوں جائز نہیں ہے۔

الشيخ نظام وجماعة من علماء الهند، الفتاوى الهندية، 3: 331، بيروت: دار الفكر

درج بالا تصریحات کو زیرِ بحث معاملے پر منطبق کرنے سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ اگر دواساز کمپنیوں کے نمائندے اپنی ادویات متعارف کروانے کے لیے ڈاکٹر حضرات سے ملتے ہیں اور بغیر کسی شرط کے‘ محض وقت دینے پر ان کا شکریہ ادا کرنے کے لیے کوئی تحفہ دیتے ہیں تو اس میں قطعاً کوئی حرج نہیں۔ اسی طرح اپنی مصنوعات (Products) متعارف کروانے کے لیے دیا گیا تحفہ بھی وصول کرنے میں کوئی ممانعت نہیں۔

لیکن اگر یہ تحائف، مالی منفعت، کھانے یا دیگر سہولیات اس شرط کے ساتھ دی جاتی ہیں کہ مریضوں کو مخصوص کمپنی کی ادویات تجویز کی جائیں گی یا طبی معائنہ (Medical Test) کسی مخصوص لیبارٹری کا ہی قبول کیا جائے گا یا اس طرح کی دیگر شرائط کے ساتھ تحائف دینا اور لینا سراسر حرام ہے۔ اسی طرح غیر شرعی یا غیرقانونی امور کی انجام دہی کے لیے دیئے تحائف وصول کرنا بھی ممنوع ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری