کیا پینٹ شرٹ میں‌ امامت کرنا درست ہے؟


سوال نمبر:4772
السلام علیکم! کیا پینٹ شرٹ میں‌ نماز کی امامت درست ہے؟ ہمارے دفتر میں ایک حافظ صاحب جماعت کرواتے ہیں‌ لیکن انہوں‌ نے اکثر پینٹ شرٹ پہنی ہوتی ہے، ایک صاحب نے ان پر اعتراض کیا ہے کہ پینٹ‌ شرٹ پہننا کیونکہ کفار کی مشابہت ہے اس لیے پینٹ شرٹ پہننے والا جماعت نہیں‌ کروا سکتا۔ اس بارے میں راہنمائی کر دیں۔ شکریہ

  • سائل: اعجاز احمدمقام: لاہور
  • تاریخ اشاعت: 17 اپریل 2018ء

زمرہ: امامت  |  شرائط امامت  |  معاشرت

جواب:

قرآنِ مجید میں اللہ پاک کا ارشاد ہے:

يَا بَنِي آدَمَ قَدْ أَنزَلْنَا عَلَيْكُمْ لِبَاسًا يُوَارِي سَوْءَاتِكُمْ وَرِيشًا وَلِبَاسُ التَّقْوَى ذَلِكَ خَيْرٌ ذَلِكَ مِنْ آيَاتِ اللّهِ لَعَلَّهُمْ يَذَّكَّرُونَ.

اے اولادِ آدم! بیشک ہم نے تمہارے لئے (ایسا) لباس اتارا ہے جو تمہاری شرم گاہوں کو چھپائے اور (تمہیں) زینت بخشے اور (اس ظاہری لباس کے ساتھ ایک باطنی لباس بھی اتارا ہے اور وہی) تقوٰی کا لباس ہی بہتر ہے۔ یہ (ظاہر و باطن کے لباس سب) اﷲ کی نشانیاں ہیں تاکہ وہ نصیحت قبول کریں۔

مزید فرمایا:

يَا بَنِي آدَمَ خُذُواْ زِينَتَكُمْ عِندَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَّكُلُواْ وَاشْرَبُواْ وَلاَ تُسْرِفُواْ إِنَّهُ لاَ يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ.

اے اولادِ آدم! تم ہر نماز کے وقت اپنا لباسِ زینت (پہن) لیا کرو اور کھاؤ اور پیو اور حد سے زیادہ خرچ نہ کرو کہ بیشک وہ بے جا خرچ کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔

الْأَعْرَاف، 7: 26، 31

اور سورہ نحل میں فرمایا:

وَاللّهُ جَعَلَ لَكُم مِّمَّا خَلَقَ ظِلاَلاً وَجَعَلَ لَكُم مِّنَ الْجِبَالِ أَكْنَانًا وَجَعَلَ لَكُمْ سَرَابِيلَ تَقِيكُمُ الْحَرَّ وَسَرَابِيلَ تَقِيكُم بَأْسَكُمْ كَذَلِكَ يُتِمُّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكُمْ لَعَلَّكُمْ تُسْلِمُونَ.

اور اللہ ہی نے تمہارے لئے اپنی پیدا کردہ کئی چیزوں کے سائے بنائے اور اس نے تمہارے لئے پہاڑوں میں پناہ گاہیں بنائیں اور اس نے تمہارے لئے (کچھ) ایسے لباس بنائے جو تمہیں گرمی سے بچاتے ہیں اور (کچھ) ایسے لباس جو تمہیں شدید جنگ میں (دشمن کے وار سے) بچاتے ہیں، اس طرح اللہ تم پر اپنی نعمتِ (کفالت و حفاظت) پوری فرماتا ہے تاکہ تم (اس کے حضور) سرِ نیاز خم کر دو۔

النَّحْل، 16: 81

مذکورہ آیات میں لباس کے تین اہم بنیادی اصول بیان کیے گئے ہیں:

  1. ستر پوشی
  2. زیب و زینت کا حصول
  3. موسمی شدت سے بچاؤ

اس لیے ہر وہ لباس جو انسان کی سترپوشی کرے، پہنا ہوا خوبصورت لگے اور گرم و سرد موسم کی شدت سے بچائے‘ شرعاً جائز ہے، اور اگر کوئی دوسری شرعی ممانعت اس سے ملحق نہ ہو تو اسے پہن کر نماز ادا کرنا‘ جماعت کروانا بھی درست ہے۔

کسی لباس کو صرف اس بنا پر ترک نہیں کیا جاسکتا کہ غیرمسلم بھی ایسا لباس پہنتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہی لباس زیبِ تن کیے جو عرب معاشرت میں مروج تھے، وہی لباس بدترین کفار، یہود و نصاریٰ بھی پہنتے تھے۔ حرمت و حلت کے احکام کے ساتھ وہی جبہ و دستار، وہی پاپوش، وہی خورد و نوش، وہی سواری کے جانور، وہی جنگی اوزار آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں بھی مستعمل تھے جو دیگر مذاہب کے ماننے والے استعمال کرتے تھے۔ اس لیے کہ غیرمسلموں کی مشابہت کے خوف سے ضرورت کی اشیاء کو ترک نہیں کیا جاسکتا۔ صرف ان امور میں ان کی مشابہت مذموم ہے جو شرعاً ناجائز ہوں۔ جیسے امام ابنِ نجیم فرماتے ہیں:

اعْلَمْ أَنَّ التَّشْبِیْهَ بِأَهْلِ الْکِتَابِ لَا یُکْرَهُ فِي کُلِّ شَيئٍ فإِنَّا نَأْکُلُ وَنَشْرَبُ کَمَا یَفْعَلُونَ إنَّمَا الْحَرَامُ هُوَ التَّشَبُّهُ فِیْمَا کَانَ مَذْمُومًا وَفِیْمَا یُقْصَدُ بِهِ التَّشْبِیهُ کَذَا ذَکَرَهُ قَاضِیخَانُ فِي شَرْحِ الْجَامِعِ الصَّغِیرِ.

جان لو کہ اہلِ کتاب کے ساتھ ہر چیز میں مشابہت مکروہ نہیں ہے، کیونکہ ہم بھی کھاتے پیتے ہیں جس طرح وہ کھاتے ہیں۔ صرف ان امور میں مشابہت ممنوع ہے جو شرعاً مذموم ہیں، یا جس کام کو ان کے ساتھ مشابہت کے ارادے سے کیا جائے وہ ممنوع ہے۔ یہی قاضی خان نے جامع صغیر کی شرح میں ذکر کیا ہے۔

ابن نجیم، البحر الرائق، 2: 11، بیروت، دار المعرفه

اور علامہ حصکفی کے مطابق:

فَإِنَّ التَّشَبُّهَ بِهِمْ لَا یُکْرَهُ فِيْ کُلِّ شَيْءٍ، بَلْ فِيْ الْمَذْمُومِ وَفِیْمَا یُقْصَدُ بِهِ التَّشَبُّهُ.

اہلِ کتاب کے ساتھ ہر چیز میں مشابہت مکروہ نہیں ہے، بلکہ مذموم چیزوں میں مشابہت مکروہ ہے یا وہ کام جس کے ذریعے ان جیسا بننے کی کوشش کی جائے۔

حصكفي، الدر المختار، 1: 624، بيروت: دار الفكر

پینٹ شرٹ اگرچہ مغربی اقوام کا لباس ہے مگر دورِ حاضر میں یہ مذہبی لباس نہیں رہا۔ سکول و کالج سے لیکر دفاتر تک بلا تفریقِ مذہب یہ پہنا جاتا ہے، اس لیے یہ کہہ کر کسی کو جماعت سے روکنا درست نہیں کہ اس نے غیرمسلموں کا لباس پہن رکھا ہے۔ البتہ پینٹ شرٹ ڈھیلی ڈھالی ہونی چاہیے، ایسی چست و تنگ نہ ہو کہ جس میں جسمانی اعضاء کے خدوخال ظاہر ہو رہے ہوں۔

یہ درست ہے کہ لباس ستر پوشی، موسمی شدت سے بچاؤ اور زیب و زینت کے ساتھ تہذیب و تمدن کا بھی اظہار کرتا ہے۔ اسلام کے اولین مخاطب عربوں سمیت تمام مشرقی تہذبوں میں ڈھیلا ڈھالا لباس ہی پہنا گیا اور چست لباس کو ناپسند کیا گیا۔ قمیص، تہبند اور شلوار ہند تہذیب کا حصہ ہیں مگر فقہائے برصغیر نے ان کو قبول کیا کیونکہ یہ ایسا لباس نہیں تھے جس سے اعضائے جسمانی کا اظہار ہو۔ چست و تنگ لباس اس تہذیب کا استعارہ ہے جس کے ساتھ اسلامی تہذیب برسرِ پیکار ہے۔ پینٹ شرٹ بھی اگر ڈھیلی ڈھالی ہے اور ستر پوشی کرتی ہے تو اس میں نماز پڑھنے یا جماعت کروانے میں حرج نہیں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری