تقرب الیٰ اللہ سے کیا مراد ہے؟


سوال نمبر:3627
تقرب سے کیا مراد ہے؟ کیا کلام پاک پڑھ کر اس کا ثواب اولیاء کرام کو اس نیت سے ایصال ثواب کرنا کہ وہ اللہ تعالی کی بارگاہ میں ہمارے لئے دعا کریں گے، تقرب کے زمرے میں آتا ہے؟ اس بابت وضاحت درکار ہے؟

  • سائل: غلام مصطفیمقام: کراچی
  • تاریخ اشاعت: 19 ستمبر 2015ء

زمرہ: عقائد  |  زیارت قبور  |  ایصال ثواب

جواب:

لفظ ’تقرب‘ عربی زبان میں ثلاثی مزید فیہ کے باب ’تَفَعُّلٌ‘ کے وزن پر مشتق اسم ہے جو اردو میں اپنے اصل معنیٰ و ساخت کے ساتھ بطور اسم ہی استعمال ہوتا ہے۔

المنجد میں لوئیس معلوف نے تقرب کے معنیٰ کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے:

تناول القربان و تقرب الی الله بالقربان: الی به اليه تعالیٰ و طلب القربانة عنده.

نذرانہ لینا، خدا کے سامنے نذرانہ یا قربانی پیش کرنا اور اس کی قربت طلب کرنا۔

معلوف، لوئيس، المنجد فی اللغة: 617، مطبوعة غدير

گویا تقرب الی اللہ سے مراد نیک اعمال کے ذریعے اللہ تعالیٰ کے نزدیک ہونا، اس کی قربت پانا یا اس کا قرب طلب کرنا ہے۔ نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ، تلاوتِ قرآن، عدل و انصاف، لوگوں سے بھلائی، اعلائے کلمۃ الحق اور دیگر اعمال صالحہ کے ذریعےاللہ تعالیٰ کی قربت حاصل ہوتی ہے۔

اس بات کا کوئی مسلمان انکار نہیں کر سکتا کہ کلام پاک کی بڑی فضیلت اور شان ہے۔ تلاوت قرآن مجید سے قاری کو ایک ایک حرف کے بدلے دس دس نیکیاں مل جاتی ہیں۔ تو جو شخص تلاوت کا ثواب کسی دوسرے کو پہنچاتا ہے، اﷲ رب العزت اس کا ثواب دوسروں کو دیتا ہے اور پڑھنے والے کو بھی پورا پورا ثواب ملتا ہے۔ جیسا کہ حدیث مبارکہ میں ہے:

عن انس  ان رسول اﷲ قال من دخل المقابر فقرا سورة يٰسين خفف اﷲ عنهم وکان له بعدد من فيها حسنات.

’’حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلیٰ اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص قبرستان میں گیا اور سورہ یٰسین تلاوت کی تو اﷲ تعالیٰ قبور پر عذاب میں تخفیف فرما دے گا، جبکہ پڑھنے والے کو بھی اس کے اندر جتنی نیکیاں ہیں مل جائیـں گی‘‘۔

جلا الدين السيوطي، شرح الصدور بشرح حال الموتی والقبور، 1: 304، دار المعرفة، لبنان

عبد اﷲ بن عمر رضي اﷲ عنهما يقول سمعت النبي يقول اِذا مات احدکم فلا تجسوه واسرعوا به اِلی قبره واليقرا عند راسه بفاتحه الکتاب وعند رجليه بخاتمة البقرة في قبره.

’’’حضرت عبد اﷲ بن عمر رضي اﷲ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اﷲ صلیٰ اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا جب تم میں سے کوئی مر جائے تو اسے روک نہ رکھو بلکہ اسے قبر کی طرف جلدی لے جاؤ اور اس کی قبر پر اس کے سر کی جانب سورہ فاتحہ اور اس کے پاؤں کی جانب سورہ بقرہ کی آخری آیات پڑھی جائیں۔‘‘

  1. طبراني، المعجم الکبير، 12: 444، رقم: 13613، مکتبة الزهراء الموصل
  2. بيهقي، شعب الايمان، 7: 16، رقم: 9294، دار الکتب العلمية بيروت

شیخ عبدالحق محدث دہلوی، مشکوٰۃ المصابیح کی شرح اشعۃ اللمعات میں اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’میت کے لئے قرآن کا ایصال ثواب کرنے اور اسے ثواب پہنچنے میں علماء کا اختلاف ہے۔ صحیح قول یہ ہے کہ ثواب پہنچتا ہے‘‘۔

پھر آگے اسی مقام میں قبر پر قرآن خوانی کے جواز کے حوالے سے فرماتے ہیں:

’’اور قبر پر قرآن پڑھنا مکروہ نہیں ہے یہی صحیح ہے جیسا کہ شیخ ابن الہمام نے ذکر کیا ہے۔‘‘

دهلوی، شيخ عبد الحق محدث، اشعة اللمعات، 1: 697، منشي نولکشور، لکهنؤ، الهند، 1936ء

لہٰذا کلام پاک اور دیگر تمام اعمال صالحہ کاثواب نیک ہستیوں کو اس نیت سے بھیجنا کہ اﷲ تعالیٰ کی قربت حاصل ہو، باعث اجر وثواب اور جائز ہے۔

بعض لوگ یہاں ایک مغالطے کا شکار ہیں کہ یہ عمل تو کفار کا ہے، دلیل کے طور پر درج ذیل آیت مبارکہ پیش کرتے ہیں:

اَ لَا ِﷲِ الدِّيْنُ الْخَالِصُ ط وَالَّذِيْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهِ اَوْلِيَآءَ م مَا نَعْبُدُهُمْ اِلاَّ لِيُقَرِّبُوْنَآ اِلَی اﷲِ زُلْفٰی ط اِنَّ اﷲَ يَحْکُمُ بَيْنَهُمْ فِيْ مَا هُمْ فِيْهِ يَخْتَلِفُوْنَ ط اِنَّ اﷲَ لاَ يَهْدِيْ مَنْ هُوَ کٰذِبٌ کَفَّارٌo

’’(لوگوں سے کہہ دیں:) سُن لو! طاعت و بندگی خالصتاً اﷲ ہی کے لیے ہے، اور جن (کفّار) نے اﷲ کے سوا (بتوں کو) دوست بنا رکھا ہے، وہ (اپنی بُت پرستی کے جھوٹے جواز کے لیے یہ کہتے ہیں کہ) ہم اُن کی پرستش صرف اس لیے کرتے ہیں کہ وہ ہمیں اﷲ کا مقرّب بنا دیں، بے شک اﷲ اُن کے درمیان اس چیز کا فیصلہ فرما دے گا جس میں وہ اختلاف کرتے ہیں، یقینا اﷲ اس شخص کو ہدایت نہیں فرماتا جو جھوٹا ہے، بڑا ناشکرگزار ہے۔‘‘

الزمر، 39: 3

اولیاءکرام کو ایصال ثواب کر کے تقرب الیٰ اللہ حاصل کرنے کو اس آیت مبارکہ کے ساتھ جوڑنا درست نہیں ہے کیونکہ کفار اللہ تعالیٰ کی بجائے ان بتوں کی پوجا پاٹ کرتے تھے اور ان کی پرستش کو قرب الٰہی کا ذریعہ سمجھتے تھے۔ ہمارا عقیدہ اس کے قطعاً برعکس ہے۔ جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری فرماتے ہیں:

کفار کا یہ طریقہ تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے کی بجائے اپنے بتوں اور مصنوعی خداؤں کی عبادت کرتے تھے، اور جب انہیں ٹوکا جاتا کہ یہ کیا حماقت کر رہے ہو؟ ان کی عبادت کیوں کرتے ہو؟ تو وہ کہتے کہ ان کی عبادت سے قربِ الٰہی نصٰب ہوتا ہے۔ یہ ہمیں خدا کا مقرب بنا دیتے ہیں۔

اسلام کا بنیادی عقیدہ یہ ہے کہ عبادت کا مستحق صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہے، اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ اگر کوئی اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی کی عبادت کرے تو وہ دائرہ اسلام سے خارج ہو جائے گا۔ مشرکین عرب اللہ تعالیٰ کی عبادت کے بارے میں کہا کرتے تھے کہ الٰہ الاعظم (سب سے بڑے خدا) کی شان اس بات سے بلند ہے کہ ہم اس کی عبادت کریں۔ ان کے مطابق انسان کے لائق یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بڑے بندوں کی عبادت میں مشغول رہے۔

بعض صاحبان حصول دعا کے لیے اولیاء کرام کی خدمت میں حاضری کو بھی اسی ضمن میں شمار کرتے ہیں اور حاضر ہونے والوں پر بےرحمی سے شرک کا الزام لگاتے ہیں۔ جب کوئی مسلمان کسی ولی یا بزرگ کی خدمت میں حاضر ہوتا ہے اور دعا کے لیے عرض کرتا ہے تو کیا ان کی عبادت کر رہا ہوتا ہے؟؟ العیاذ باللہ

اگر طلب دعا کے لیے کسی کے پاس جانا شرک ہے تو ان صحابہ کرام کے بارے میں کیا فتویٰ ہے جو سرکارِ دوعالم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں کبھی بارش کے لیے، کبھی بیماری سے شفایابی کے لیے اور کبھی دیگر مقاصد کے لیے حاضر ہوتے تھے اور حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے لیے دست دعا دراز کرتے تھے؟؟

ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اس بات پر کامل ایمان رکھے کہ اللہ تعالی کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے۔ غیراللہ کی عبادت کفر، گمراہی اور ابدی عذاب کا موجب ہے۔ ان بےرحم مفتیوں سے بھی مؤدبانہ التماس ہے کہ وہ شمع توحید کے پروانوں پر شرک کی جھوٹی تہمتیں لگانے کا شغل ترک کریں اور کوئی مفید مشغلہ اپنائیں جس سے ان کا بھی بھلا ہو اور قوم کا بھی۔

کرم شاه، پير، الازهری، ضياءالقرآن، 4: 258، 259، ضياءالقرآن پبليکيشنز، لاهور

امید ہے کہ تقرب الیٰ اللہ کا مفہوم سمجھنے میں ہماری یہ تحریر معاون ثابت ہوگی۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری