کس طرح کی سرمایہ کاری پر زکوۃ لاگو ہوتی ہے؟


سوال نمبر:2660
السلام علیکم میرا سوال یہ ہے کہ میں‌ نے ایک کمپنی میں‌ کچھ پیسے انوسٹ کیے ہوئے ہیں، جن کی مالیت 3 لاکھ روپے ہے اور یہ پیسے 3 ماہ پہلے انوسٹ کیے تھے اور یہ پیسے میرے پاس اسی وقت اکٹھے ہوئے تھے جس ماہ میں‌ نے انوسٹ کیے تھے۔ ان پیسوں پر مجھے کمپنی کے قواعد کے مطابق نفع ونقصان کی بنیاد پر ماہانہ منافع ملتا ہے۔ کیا ان پیسوں پر مجھے زکوۃ ادا کرنی پڑے گی؟ برائے مہربانی میری رہنمائی کریں۔ دوسری بات یہ ہے کہ میں‌ نے اسی کمپنی میں‌ لانگ ٹرم شرائط پر بھی پیسے انوسٹ کیے ہوئے ہیں دو لاکھ روپے، ان میں‌ سے مجھے ایک لاکھ روپے مل چکے ہیں (جو میں نے دوبارہ ماہانہ منافع والی سکیم میں‌ انوسٹ کر دیے تھے) اور باقی پیسے مجھے 3 سال میں ملنے ہیں ہر تین ماہ بعد 27،000 روپے کر کے۔ کیا ان پیسوں پر بھی زکوہ‌ واجب ہو گی۔

  • سائل: اشتیاق احمدمقام: سرگودھا، پاکستان
  • تاریخ اشاعت: 24 اگست 2013ء

زمرہ: زکوۃ  |  ایمانیات

جواب:

پہلی صورت میں اگر آپ پہلے سے صاحب نصاب تھے تو سال مکمل ہونے پر کل مال پر اڑھائی فیصد زکوۃ ادا کرنی ہو گی۔ خواہ یہ تین لاکھ تین دن ہی پہلے کیوں نہ ملا ہو۔ دوسری بات یہ ہے کہ جو رقم آپ نے کہیں انوسٹ کی ہوئی ہے یا کسی کو بطور قرض دی ہوئی ہے اور اس کے ملنے کا یقین ہے تو اس پر زکوۃ ادا کرنا ہوتی ہے۔

مزید وضاحت کے لیے یہاں کلک کریں
کس زمین‌ پر زکوۃ لاگو ہو گی؟

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی