Fatwa Online

کیا متوفی کی پینشن بیوہ کے علاوہ متوفی کی اولاد میں بھی تقسیم ہوگی؟

سوال نمبر:5979

السلام علیکم! ہمارے والد صاحب کا وصال 2014 میں ہوگیا تھا اور ان کی ماہانہ 35 ہزار پینشن آتی ہے۔ والدہ صاحبہ زندہ ہیں اور ہم 5 بہن بھائی ہیں، جن میں چار شادی شدہ ہیں۔ دو بہنیں شادی کے بعد اپنی گھروں میں ہیں اور ایک بھائی بیرونِ ملک ہوتے ہیں۔ والدہ اور دو بھائی والد صاحب کے گھر میں مقیم ہیں۔ پوچھنا یہ ہے کہ پینشن پر کس کس کا حق ہے؟ اور والدہ کا کسی بھائی بہن کو پینشن کے پیسوں سے کھانے سے منع کرنا کیسا ہے؟

سوال پوچھنے والے کا نام: سید انوار علی

  • مقام: حیدرآباد
  • تاریخ اشاعت: 25 اکتوبر 2022ء

موضوع:تقسیمِ وراثت

جواب:

عام طور سرکاری یا نجی اداروں کی پالیسی ہوتی ہے کہ ملازمین کی پینشن ان کی وفات کے بعد ان کی بیوہ کو ملتی ہے، بعض اوقات ادارے بیوہ کے علاوہ غیرشادی شدہ بیٹیوں کو بھی پینشن کا حقدار تصور کرتے ہیں اور ملازمین کی وفات کے بعد بیوہ اور غیرشادی شدہ بیٹیوں کو بھی پینشن دیتے ہیں۔ اس لیے سائل بھی پینشن دینے والے ادارے کی پالیسی معلوم کریں کہ ضابطے کے مطابق پینشن کی رقم پر قانوناً کس کس کا حق ہے۔ جس طرح ادارے کا ضابطہ ہو اس کے مطابق پینشن کی رقم تقسیم کی جائے۔ اگر ادارے کی پالیسی میں پینشن کو صرف بیوہ حق کہا گیا ہے تو بیوہ دیگر اولاد کو پینشن کی رقم سے دینے کی شرعاً پابند نہیں ہے، پھر یہ خالص اسی کا حق ہے۔ بیوہ اپنی مرضی، آزادی اور رضامندی سے اگر پینشن کی رقم ساری اولاد میں تقسیم کرنا چاہے تو اسے اختیار ہے کیونکہ یہ اس کی ملکیت ہے اور اگر باقی اولاد کو محروم کر کے کسی ایک بیٹے یا بیٹی کو دینا چاہے تو تب بھی اُسے ایسا کرنے کا حق ہے، دیگر اولاد اس سے مطالبہ کرنے کا قانونی حق نہیں رکھتی۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی:محمد شبیر قادری

Print Date : 08 February, 2023 04:23:00 PM

Taken From : https://www.thefatwa.com/urdu/questionID/5979/