Fatwa Online

خلفائے ثلاثہ کی اولادیں امام حسینؑ کے ساتھ کربلا میں شریک کیوں نہیں تھیں؟

سوال نمبر:5840

السلام علیکم! حضرت ابو بکر، حضرت عمر، حضرت عثمان رضی للہ کی اولاد نے کربلا میں شرکت کی تھی؟

سوال پوچھنے والے کا نام: عظمت حیات

  • مقام: تلہ گنگ
  • تاریخ اشاعت: 17 اکتوبر 2022ء

موضوع:فضائل و مناقبِ‌ اہلبیتِ اطہار  |  خلفائے راشدین و صحابہ کرام

جواب:

خلفائے ثلاثہ کی اولادیں کربلاء میں امام حسین علیہ السلام کے ساتھ شریک نہیں تھیں۔ اُن کے شریک نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ امام حسین علیہ السلام مدینہ منورہ سے جنگ کیلئے روانہ نہیں ہوئے تھے، نہ آپ علیہ السلام نے صحابہ کرام یا تابعین کو اپنے ساتھ محاذ پر چلنے کی دعوت دی تھی۔ امام حسین علیہ السلام کسی صورت محاذ آرائی کے ارادے سے مدینہ منورہ سے روانہ نہیں ہوئے تھے۔ آپ علیہ السلام چاہتے تو ہزاروں صحابہ کرام اور تابعین کو ساتھ لیکر نکل سکتے تھے۔ آپ علیہ السلام نے شہرِ مدینہ چھوڑا اور مکہ مکرمہ آئے، پھر ایّامِ حج میں شہرِ مکہ چھوڑ کر کوفہ کی طرف روانہ ہوگئے۔ اس سارے سفر میں آپ نے امن و امان کی کوششیں کیں مگر یزید لعین نے اقتدار کی ہوس میں سانحہ کربلا برپا کیا۔

المختصر یہ کہ امام حسین علیہ السلام نہ ارادۂ جنگ سے نکلے تھے، نہ آپ علیہ السلام نے اہلِ مدینہ کو ساتھ نکلنے کی دعوت دی تھی، اس لیے اکابر صحابہ کرام اور تابعین رضوان اللہ علیہم اجمعین آپ کے لشکر میں شامل نہیں ہوئے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی:محمد شبیر قادری

Print Date : 07 December, 2022 06:53:48 PM

Taken From : https://www.thefatwa.com/urdu/questionID/5840/