Fatwa Online

کیا کسی ہندو کے ہاتھ سے بنا ہوا کھانا کھایا جاسکتا ہے؟

سوال نمبر:1330

کیا کسی ہندو کے ہاتھ سے بنا ہوا کھانا کھایا جا سکتا ہے؟ اور کیا اس کے ساتھ بیٹھ کر بھی کھانا جائز ہے؟

سوال پوچھنے والے کا نام: جنید مختار

  • مقام: سڈنی، آسٹریلیا
  • تاریخ اشاعت: 09 جنوری 2012ء

موضوع:خور و نوش

جواب:

جی ہندو کے ہاتھ سے بنا ہوا کھانا جائز ہے۔ البتہ ہندو کے ہاتھ کا ذبیحہ جائز نہیں ہے۔ اگر کسی ہندو نے کوئی حلال جانور بھی ذبح کیا تو جائز نہیں ہے، اور حرام ہے۔ چاہے اسے کوئی ہندو پکائے یا مسلمان۔ اگر جانور کو مسلمان نے ذبح کیا اور ہندو نے پکایا تو پھر کھانا جائز ہے۔ کیونکہ ہندو بتوں کے نام سے ذبح کرتے ہیں اور یہ حرام ہے۔

ہندو کے پکانےمیں شرعاً کوئی حرج نہیں ہے، اس کے ہاتھ سے بنا ہوا کھانا جائز ہے۔ مثلاً سبزیاں، دالیں، چاول اور باقی سب کھانے ماسوائے ذبیحہ۔ باالفاظ دیگر ہندوؤں کے ذبیحہ کو چھوڑ کر ہندو کے ہاتھ سے بنی ہوئی ہر چیز شرعاً کھانا جائز اور حلال ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی:حافظ محمد اشتیاق الازہری

Print Date : 27 November, 2022 04:45:44 PM

Taken From : https://www.thefatwa.com/urdu/questionID/1330/