Fatwa Online

سحری کا وقت کب ختم ہوتا ہے، کیا اس کے بعد کچھ کھانا جائز ہے؟

سوال نمبر:591

سحری کا وقت کب ختم ہوتا ہے، کیا اس کے بعد کچھ کھانا جائز ہے؟

سوال پوچھنے والے کا نام:

  • تاریخ اشاعت: 12 فروری 2011ء

موضوع:عبادات  |  روزہ  |  سحر و افطار کے احکام

جواب:

:  سحری کا وقت ختم ہونے کے بعد کچھ بھی کھانا پینا جائز نہیں کیونکہ سحری کا وقت رات کے آخری نصف سے شروع ہوتا ہے اور صبح صادق سے چند لمحے قبل تک باقی رہتا ہے۔ حضرت زید بن ثابت رضی اﷲ عنہما سے مروی ہے کہ ’’ہم نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سحری کھائی پھر آپ نماز کے لئے اٹھے، (راوی کہتے ہیں) میں نے ان سے دریافت کی :  اذان اور سحری میں کتنا وقفہ تھا (یعنی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اذان سے کتنی دیر قبل سحری کی تھی)؟ انہوں نے فرمایا :  پچاس آیات پڑھنے کے برابر۔

 بخاری، الصحيح، کتاب الصوم، باب قدر کم بين السحور و صلاة الفجر، 2 : 678، رقم :  1821

جمھور فقھاء کے نزديک اگر صبح صادق ھونے ميں شک ھو تو کھا پي سکتے ھيں، ليکن جب صبح صادق کا يقين ھو جائے تو رک جانا ضروري ھے۔ ھاں اگر کوئي کھا رھا ھے اور اذانِ فجر شروع ھوگئی ھے تو بقدرِ ضرورت کھانے کی اجازت ھے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

Print Date : 01 December, 2022 12:36:05 PM

Taken From : https://www.thefatwa.com/urdu/questionID/591/