Fatwa Online

اگر وضو کے دوران کسی عضو کے دھونے میں شک واقع ہو تو کیا وضو دوبارہ کرنا چاہیے؟

سوال نمبر:336

اگر وضو کے دوران کسی عضو کے دھونے میں شک واقع ہو تو کیا وضو دوبارہ کرنا چاہیے؟

سوال پوچھنے والے کا نام:

  • تاریخ اشاعت: 26 جنوری 2011ء

موضوع:وضوء  |  طہارت

جواب:

اگر وضو کے دوران یہ شک پیدا ہو جائے کہ کسی ایسے عضو کو دھویا ہے یا نہیں جس کا دھونا وضو میں فرض ہے، تو اصل حکم یہ ہے کہ صرف اسی مشکوک عضو کو دوبارہ دھو لیا جائے۔ اگر وضو کی ترتیب (ترتیبِ اعضاء) کو برقرار رکھنا مقصود ہو تو اس عضو کے بعد آنے والے اعضا کو بھی ترتیب کے مطابق دوبارہ دھو لینا بہتر ہے۔ البتہ اس شک کی وجہ سے پورا وضو دوبارہ کرنا ضروری نہیں؛ کیونکہ شریعت نے اس معاملے میں آسانی رکھی ہے۔ لہٰذا صرف جس عضو کے دھونے میں شک ہو، اسے دھو لینا کافی ہے، اور اس سے وضو درست ہو جاتا ہے۔ جیسا کہ فقہاء کرام لکھتے ہیں:

ذَهَبَ الْفُقَهَاءُ إِلَى أَنَّ مَنْ نَسِيَ غَسْلَ عُضْوٍ هُوَ فَرْضٌ فِي الْوُضُوءِ، أَوْ لُمْعَةً فِي ذَلِكَ الْعُضْوِ، فَإِنَّهُ يَجِبُ تَدَارُكُهُ؛ لِأَنَّهُ تَرَكَ فَرْضًا مِنْ فُرُوضِ الْوُضُوءِ.

’’فقہاء کرام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اگر کسی شخص سے وضو کے دوران کسی ایسے عضو کو دھونا رہ جائے جس کا دھونا فرض ہے، یا اس فرض عضو کا کوئی حصہ (جتنی جگہ پانی نہ پہنچا ہو) دھلنے سے رہ جائے، تو اس پر لازم ہے کہ اس کمی کی تلافی کرے؛ کیونکہ اس نے وضو کے فرائض میں سے ایک فرض کو ترک کر دیا ہے۔‘‘

وزارة الأوقاف والشئون الإسلامية، الموسوعة الفقهية الكويتية، ج/40، ص/269، الكويت: دار السلاسل

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

Print Date : 13 August, 2026 04:19:45 PM

Taken From : https://www.thefatwa.com/urdu/questionID/336/