جواب:
کوئی سرکاری یا نیم سرکای ادارہ یا پرائیویٹ ادارہ اپنے ہر ملازم کی تنخواہ سے کچھ رقم کاٹ کر محفوظ کر لیتا ہے، اگر وہ بندہ چاہے تو اس رقم کو کسی صنعت یا تجارت میں انویسٹ بھی کر سکتا ہے، جس سے اصل رقم بھی محفوظ ہو جاتی ہے، بلکہ کئی گنا اضافہ بھی ہو جاتا ہے۔ اب اگر وہ ادارہ کئی سالوں کے بعد ریٹائرمنٹ پر اپنے ملازم کو دگنی رقم دیتا ہے تو وہ کوئی احسان نہیں کرتا، بلکہ اس کی اپنی رقم کا کمایا ہوا کئی گنا زیادہ منافع اپنے پاس رکھ کر صرف دوگنا اس ملازم کو دیتا ہے، اگر دیانتداری سے حساب کیا جائے تو اٹھنے والے سروسز اخراجات کے بعد بھی اس سے کہیں زیادہ رقم اس ملازم کو مل سکتی ہے اور جتنا کچھ ملازم کو مل رہا ہے وہ اس کے حقیقی حصے سے بہت کم ہے۔ پس موجودہ غیر منصفانہ بلکہ ظالمانہ معاشی نظام میں جتنا بھی مل جائے وصول کیجئے۔
رہا یہ امکان کہ نہ جانے اس ادارے نے یہ رقم سودی کاروبار سے کمائی ہو؟ سو عرض یہ ہے کہ یہ سب ان کی گور گردن پر، وہ چاہیں تو صحیح جائز مدوں میں بھی اس سرمائے کو لگا سکتے ہیں اور چاہیں حرام سودی کاروبار پر استعمال کریں۔ بہر حال وصولی سے پہلے نہ آپ اس مال کے مالک ہیں، نہ قابض اور نہ آپ کی مرضی سے اسے استعمال کیا گیا ہے، اس جائز و ناجائز کی ذمہ داری آپ پر نہیں متعلقہ ادارے پر ہے۔ جب آپ وصول کر لیں گے، پھر آپ اس کے استعمال کے ذمہ دار ہوں گے۔ لہٰذا آپ اور ہر ملازم کے لئے یہ رقم حلال اور طیب ہے۔
واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔